اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ اوّل) — Page 325
الازهار لذوات الخمار جلد سوم حصہ اوّل 325 جلسہ سالانہ سویڈن 2005 مستورات سے خطاب ہیں یا ایک عرصہ کے بعد گھر برباد ہوتے ہیں، مشرقی معاشرہ میں اتنے نہیں ہوتے یا ایسے معاشرے میں جہاں اسلام کی صحیح تصویر پیش کی جاتی ہے۔اور آج کل یہاں جن لوگوں نے پاکستان سے آکر یورپ کے اثر کو قبول کیا ہے ہمارے چند ایک پاکستانی احمدی بھی اس میں شامل ہو چکے ہیں، دوسرے تو اکثر ہیں ، وہ چاہے لڑکے ہوں یا لڑکیاں اس معاشرہ کے اثر کو قبول کرنے کی وجہ سے اپنے گھر برباد کر رہے ہیں۔اور اسی لئے آج کل دیکھ لیں آپ پاکستانی خاندانوں میں بھی طلاقیں بہت بڑھ گئی ہیں۔ذراسی ناراضگی کی وجہ سے یا کوئی لڑکی علیحدگی لے لیتی ہے یا لڑکا علیحدگی لے لیتا ہے، طلاق لے لیتا ہے۔تو آپ آگے فرماتے ہیں کہ اسلام تقوی سکھانے کے واسطے دنیا میں آیا ہے۔“ ( ملفوظات جلد اول ، جدید ایڈیشن ، صفحہ 297-298) اللہ تعالیٰ ہر احمدی عورت اور ہر احمدی بچی کو تقویٰ پر چلتے ہوئے اسلامی تعلیم پر عمل کرنے کی توفیق عطاء فرمائے۔بچوں کی تربیت کیلئے مغربی ماحول کی برائیوں سے بچنے کی انتہائی کوشش کریں ایک اور بات جس کی طرف میں احمدی خواتین کو توجہ دلانی چاہتا ہوں وہ بچوں کی تربیت ہے۔ان ملکوں میں آکر آپ پر کچھ ذمہ داریاں ہیں۔میں نے پہلے بھی کہا ہے صرف معاشی حالات بہتر کرنے نہیں آئیں بلکہ جس طرح معاشی حالات بہتر ہوتے ہیں اس طرح ہی ذمہ داریاں بڑھتی چلی جارہی ہیں اور ان میں سے بہت بڑی ذمہ داری بچوں کی تربیت ہے۔اگر یہ ذمہ داری احسن طور پر آپ نبھائیں تو یہ فکر میں بھی دور ہو جائیں گی کہ اگلی نسلوں کو یورپ کی جو بعض گندی باتیں ہیں اُن سے کس طرح بچانا ہے۔آزاد ماحول سے کس طرح بچانا ہے۔اس ماحول کی اچھائیاں تو آپ اختیار کریں۔یہاں اچھائیاں بھی ہیں لیکن برائیوں سے بچنے کی بھی انتہائی کوشش کرنی ہوگی۔ان قوموں میں کھلے دل سے آپ کی بات سننے کا بڑا حوصلہ ہے۔آپ کو انہوں نے اپنے ملک میں جگہ دی ہے، یہاں آباد کیا ہے۔یہ بھی بڑے حوصلے کی بات ہے۔یہ بھی ان ملکوں کی بڑی خوبی ہے۔احمدیوں کو خاص طور پر ان کی مجبوریوں کی وجہ سے یہاں مغرب میں پناہ ملی ہے۔سچائی کا عمومی معیار بھی ان