اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ اوّل) — Page 293
الازھار لذوات الخمار جلد سوم حصّہ اوّل 293 جلسہ سالانہ یو کے 2005 مستورات سے خطاب رکھیں کہ دوہرے معیار نہ ہوں۔اپنے لباس کو ایسا رکھیں جو ایک حیا والا لباس ہو۔دوسرے جو پردے کی عمر کو پہنچ گئی ہیں وہ اپنے لباس کی خاص طور پر احتیاط کریں اور کوٹ اور حجاب وغیرہ کے ساتھ اور پردے کے ساتھ رہنے کی کوشش کریں۔غیروں سے پردے کا حکم اللہ تعالیٰ نے ہر جگہ دیا ہوا ہے۔یہ کہیں نہیں لکھا کہ خاوندوں کے دوستوں یا بھائیوں کے دوستوں سے اگر وہ گھر میں آجائیں تو پردہ چھوڑنے کی اجازت ہے۔یا بازار میں جانا ہے تو پردہ چھوڑنے کی اجازت ہے یا تفریح کے لئے پھرنا ہے تو پردہ چھوڑنے کی اجازت ہے۔حیادار لباس بہر حال ہونا چاہئے اور جو پردے کی عمر میں ہے ان کو ایسا لباس پہننا چاہئے جس سے احمدی عورت پر یہ انگلی نہ اٹھے کہ یہ بے پردہ عورت ہے۔کام پر اگر مجبوری ہے تو تب بھی پورا ڈھکا ہوا لباس ہونا چاہیے اور حجاب ہونا چاہئے۔تو پردہ جس طرح جماعتی فنکشن پر ہونا ضروری ہے عام زندگی میں بھی اتنا ہی ضروری ہے۔بہر حال عورت کی زینت کی بات ہو رہی ہے اور لباس تقوی کی بات ہو رہی تھی کہ زینت جو ہے وہ تقوی کے لباس میں ہی ہے یعنی اس کا ہر فعل خدا تعالیٰ کے خوف اور اس کے احکامات پر عمل کرنے کو مد نظر رکھتے ہوئے ہو۔یہ نہ ہو کہ اپنی نفسانی خواہشات کو ترجیح دیتے ہوئے عمل ہو رہے ہوں۔پس اگر ہر احمدی عورت اس سوچ کے ساتھ اپنی زندگی گزار رہی ہوگی اور لباس تقوی کے لئے اس سے بڑھ کر تر و دکر رہی ہوگی جتنا کہ آپ اپنے ظاہری لباس کے لئے کرتی ہیں تو یہ لباس تقوی آپ کی چھوٹی موٹی روحانی اور اخلاقی برائیوں کو چھپانے والا ہوگا اور اللہ تعالیٰ کی مغفرت کی نظر آپ پر ہوگی۔اس وجہ سے کہ اللہ کا خوف ہے تقویٰ کو اپنا لباس بنانے کی کوشش کرتی ہیں خدا تعالیٰ کمزوریوں کو دور کرنے کی بھی توفیق دیتا ہے اور دے گا اور ایمان میں ترقی کرنے کی بھی توفیق دے گا۔کیونکہ اس توجہ کی وجہ سے جو آپ اپنے آپ کو لباس تقوی میں سمیٹنے کے لئے کریں گی آپ کو خدا تعالیٰ کے آگے جھکنے کے بھی مواقع ملیں گے۔اور اللہ تعالیٰ اپنے آگے نیک نیتی سے جھکنے والوں کی دعاؤں کو قبول بھی کرتا ہے، ان کو ضائع نہیں کرتا۔پھر اس سے مزید نیکیوں کی توفیق ملتی چلی جائے گی۔وہ ایسے جھکنے والوں کی طرف اپنی مغفرت کی چادر پھیلاتا ہے اور جب انسان اللہ تعالیٰ کی مغفرت کی چادر تلے آجائے تو پھر انہیں راستوں پر چلتا ہے جو اللہ تعالیٰ کی رضا کے راستے ہیں۔