اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ اوّل)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 280 of 377

اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ اوّل) — Page 280

الازهار لذوات الخمار جلد سوم حصہ اوّل 280 خطبه جمعه فرمودہ 8 جولائی 2005 (اقتباس) مطابق خرچ کرنے کے نمونے جہاں ہمیں جماعت احمدیہ کی تاریخ میں اور دوسرے ملکوں میں ملتے ہیں وہاں یو۔کے بھی کسی سے کم نہیں ہے۔مردوں اور عورتوں نے بڑھ چڑھ کر یہ نمونے قائم کئے ہیں۔خاص طور پر میں عورتوں کا ذکر کروں گا۔ان کی پسندیدہ چیز زیور ہوتی ہے جس کو وہ بڑے شوق سے بناتی ہیں اور ان کے لئے سب سے پسندیدہ مال یہی ہے۔لیکن احمدی عورت جس کو اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنی مقصود ہے اس نے ہمیشہ اپنی اس پسندیدہ چیز کو جماعتی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے پیش کیا۔اور احمدیت کی تاریخ میں ابتداء سے لے کے آج تک کرتی چلی آرہی ہیں۔اور u۔k کی عورتوں نے بھی یہ نظارے ہمیں دکھائے ہیں۔ایسی عورتیں بھی ہیں جنہوں نے ہر تحریک پر اپنا کوئی نہ کوئی زیور نکال کر پیش کر دیا۔یہاں تک کہ اپنے آخری زیور چوڑیاں یا بالیاں جو بھی تھیں وہ بھی دے دیں، خالی ہاتھ ہو گئیں۔بعض ان کے پاس بزرگوں کی نشانیاں تھیں وہ بھی پیش کر دیں۔پھر اگر خاوند نے یا ان کے ماں باپ نے اور زیور بنا کر دیئے تو وہ بھی لا کر پیش کر دیئے۔کئی ایسی آئی ہیں میرے پاس کہ یہ بھی آپ کسی تحریک میں شامل کر لیں۔تو یہ مثالیں احمدی عورت میں ہی ہمیں نظر آتی ہیں۔کینیڈا میں لجنہ کی سیکرٹری مال بڑے جذباتی انداز میں کہنے لگیں کہ یہاں کی عورتوں کے لئے دعا کریں کہ اس طرح مختلف تحریکات میں انہوں نے بڑھ چڑھ کر اپنے زیور پیش کئے ہیں کہ حیرانی ہوتی ہے کہ کس طرح قرآن کے حکم کے مطابق اپنی پسندیدہ چیز کو پیش کر رہی ہیں۔تو میں نے ان کو یہی کہا تھا کہ یہی تو ایک احمدی عورت کی خوبصورتی ہے، یہی تو اس کا حسن ہے کہ اپنے ظاہری دنیاوی زینت کے سامان کو ، اس کو جس سے وہ محبت کرتی ہیں، حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی جماعت کی زینت بنانے کے لئے اور خدا کے گھر کی تعمیر اور زینت کے لئے قربان کر دیتی ہیں۔اور یہ نظارے ہمیں احمدی دنیا میں ہر جگہ نظر آتے ہیں۔پسندیدہ مال خرچ کرنے والی احمدی خواتین ہر جگہ پائی جاتی ہیں یہ پسندیدہ مال خرچ کرنے والی جہاں ہمیں کینیڈا میں نظر آتی ہیں وہاں یو کے میں بھی، جرمنی میں بھی ہیں، پاکستان جیسے غریب ملک میں بھی ہیں، جہاں غریب کی کل جمع پونجی ایک آدھ زیور ہوتا ہے۔اور یہ بھی پھر کوئی امید نہیں ہوتی کہ شاید کبھی اور بھی زیور بنانے کا موقع مل جائے۔لیکن وہ بڑے