اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ اوّل)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 23 of 377

اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ اوّل) — Page 23

الازهار لذوات الخمار جلد سوم حصہ اوّل 23 جلسہ سالانہ برطانیہ 2003 مستورات سے خطاب نے فرمایا کہ سَنَة سَنَنواہ واہ کیا کہنے۔(سَنَة حبشی زبان کا لفظ ہے اور اس کے معنی کسی کے ہیں ) یعنی یہ کپڑے تمہیں بہت اچھے لگ رہے ہیں۔راو یہ کہتی ہیں میں آگے بڑھی اور خاتم نبوت سے کھیلنے لگی۔اس پر میرے والد نے مجھے ڈانٹا۔تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے کھیلنے دو۔پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ فرمایا ان کپڑوں کو خوب پہن کر پرانے کر کے پھاڑنا۔(صحیح بخارى كتاب الأدب، باب من ترك صبية غيره حتى تعلب به أوقبلها أومازحها) اکثر دیکھا گیا ہے کہ جب بچے بلکہ ایسی چھوٹی عمر کے بچے جن کو ابھی بولنا بھی نہیں آتا جب کوئی نئے کپڑے پہنتے ہیں تو جن سے بے تکلف ہوں ضرور ان کو اشارے سے دکھاتے ہیں۔اور اگر بڑا خود دیکھ کر بچے کے کپڑوں کی تعریف کرے، اس کی چیز کی تعریف کر دے تو بچے خوشی سے پھولے نہیں سماتے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جو سرا پا شفقت تھے، ہر ایک کے جذبات کا خیال رکھنے والے تھے، دنیا میں سب سے بڑھ کر محبت کرنے والے تھے، جب آپ کے سامنے بچی جاتی ہے تو کمال شفقت سے اس کے کپڑوں کی تعریف کرتے ہیں تا کہ بچہ خوش ہو جائے۔اکثر دیکھا گیا ہے کہ جب آپ بچے کی تعریف کریں، اس سے محبت و شفقت کا سلوک کریں تو بچہ بے تکلف ہو کر کھیلتا ہے اور مختلف حرکات کرتا ہے اور راویہ کہتی ہیں کہ میں نے بھی بے تکلفی کا مظاہرہ کیا تو میرا باپ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مقام کو سمجھتا تھا اس کو بُر الگا۔باپ نے ڈانٹا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ادب سے رہو اور یہ وہ مقام نہیں ہے جہاں تم بے تکلف ہو کر کھیلنے کی کوشش کر و۔لیکن سراپا شفقت و محبت نے کمال شفقت سے فرمایا : نہیں کھیلنے دو۔اور پھر اس کھیل ہی کھیل میں یہ نصیحت بھی فرما دی کہ اپنے ماں باپ سے روز روز نئے کپڑوں کا مطالبہ نہ کرنا۔بلکہ ان کو خوب پہنو اور پرانے کرو۔پیار ہی پیار میں یہ نصیحت بھی فرما دی کہ دنیاوی چیزوں کے بارہ میں حرص کو اپنے قریب نہ آنے دینا۔تو یہ ہے وہ اُسوہ جو ہر ماں باپ کو اپنے بچوں کی تربیت میں اپنانا چاہئے۔اپنا دوست بھی بناؤ ، اپنے قریب بھی کرو، اس قربت میں پیار سے بچوں کو نصیحت بھی کرو۔یہ نہیں کہ ذرا بچے نے ضد کی تو نئے کپڑے لینے بازار دوڑے گئے یا کسی چیز کا مطالبہ کیا تو فورا پورا کرنے کی کوشش کی۔اپنے پر