اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ اوّل) — Page 22
الازهار لذوات الخمار جلد سوم حصہ اوّل 22 جلسہ سالانہ برطانیہ 2003 مستورات سے خطاب اب دیکھیں یہاں صرف کھانے کے آداب ہی نہیں سکھائے بلکہ یہ بھی سکھایا ہے کہ کھانا کھا کر ہاتھ دھولیا کرو۔خاص طور پر سالن وغیرہ قسم کا کھانا یا ایسا کھانا جس سے تمہارے ہاتھوں میں چکنائی، چچپاہٹ یا بو آ جائے۔بعض لوگ جو ہاتھ نہیں دھوتے ان کے ہاتھوں سے ایسی بو آ رہی ہوتی ہے کہ کھانا خواہ وہ خوشبو دار ہی کہلائے اور کھانا کھاتے ہوئے چاہے وہ خوشبو اچھی لگ رہی ہو لیکن ان کے ہاتھوں سے اٹھتی ہوئی بہر حال اچھی نہیں لگ رہی ہوتی۔تو یہ ہیں وہ آداب جو آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں سکھائے ہیں۔اور یہ بچے کا حق ہے ماں باپ پر کہ وہ یہ تمام باتیں اپنے ماں باپ سے سیکھے۔ایک حدیث میں آتا ہے کہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک دفعہ حضرت علیؓ کے بیٹے حسن نے صدقہ کی ایک کھجور منہ میں ڈال لی تو حضور نے فرمایا کہ: چھی چھی تم جانتے نہیں کہ ہم صدقہ نہیں کھایا کرتے۔(صحیح بخارى كتاب الجهاد باب من تكلم بالفارسة والرطانة)۔اب اس کا عام طور پر یہ مطلب لیا جاتا ہے اور وہ ٹھیک ہے کہ آپ نے فرمایا کہ مجھ پر اور میری اولاد پر صدقہ حرام ہے۔اور برصغیر میں ظاہر اسید اس کی بڑی پابندی کرتے ہیں۔لیکن حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے اس کی ایک اور تشریح بھی فرمائی ہے۔فرمایا اس کا مطلب یہ تھا کہ تمہارا کام خود کام کر کے کھانا ہے نہ کہ دوسروں کے لئے بوجھ بننا۔اب دیکھیں بچپن سے ہی کتنے سبق آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے نواسے کو دے دئے۔اگر بچپن سے ہی یہ سوچ مائیں اپنے بچوں میں پیدا کریں تو آپ دیکھیں گے کہ احمدی معاشرے میں کچھ عرصہ بعد کوئی بھی ہاتھ مانگ کر کھانے والا نہیں ہوگا بلکہ کچھ کر کے کھانے والا اور کھلانے والا بن جائے گا۔بچوں سے شفقت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بچوں سے شفقت اور کس طرح آپ سبق دیتے تھے، نصیحت کرتے تھے، اس بارہ میں ایک حدیث ہے کہ خالد بن سعید کی بیٹی اُتم خالد روایت کرتی ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اپنے باپ کے ساتھ زردرنگ کی قمیص پہنے ہوئے گئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم