اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ اوّل)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 267 of 377

اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ اوّل) — Page 267

الازھار لذوات الخمار جلد سوم حصّہ اوّل پھر فرمایا: 267 جلسہ سالانہ کینیڈ 2005 مستورات سے خطاب اگر اس کی آزادی اور بے پردگی سے اُن کی عفت اور پاک دامنی بڑھ گئی ہے تو ہم مان لیں گے کہ ہم غلطی پر ہیں۔آپ یہاں رہ رہے ہیں ، حضرت مسیح موعود فرماتے ہیں کہ اگر اس آزادی سے اور بے پردگی سے تمہارے خیال میں یہاں مغربی ملکوں کی عورتیں بہت زیادہ پاک ہوگئی ہیں، اللہ والی ہوگئی ہیں تو ہم مان لیتے ہیں کہ ہم غلطی پر ہیں۔لیکن فرمایا کہ:۔د لیکن یہ بات بہت ہی صاف ہے کہ جب مرد اور عورت جوان ہوں اور آزادی اور بے پردگی بھی ہو تو ان کے تعلقات کس قدر خطرناک ہوں گے۔بد نظر ڈالنی اور نفس کے جذبات سے اکثر مغلوب ہو جانا انسان کا خاصہ ہے۔پھر جس حالت میں کہ پردہ میں بے اعتدالیاں ہوتی ہیں اور فسق و فجور کے مرتکب ہو جاتے ہیں تو آزادی میں کیا کچھ نہ ہوگا“۔فرمایا کہ جب پردہ ہوتا ہے تو وہاں بھی بعض دفعہ ایسی باتیں ہو جاتی ہیں لیکن جب آزادی ملے گی تو پھر تو کھلی چھٹی مل جائے گی۔پھر فرماتے ہیں کہ : وو مردوں کی حالت کا اندازہ کرو کہ وہ کس طرح بے لگام گھوڑے کی طرح ہو گئے ہیں۔نہ خدا کا خوف رہا ہے نہ آخرت کا یقین ہے۔دنیاوی لذات کو اپنا معبود بنا رکھا ہے۔پس سب سے اول ضروری ہے کہ اس آزادی اور بے پردگی سے پہلے مردوں کی اخلاقی حالت درست کرو“۔اگر تمہارے خیال میں تم پاک دامن ہو بھی تو یہ ضمانت تم کہاں سے دے سکتی ہو کہ مردوں کی اخلاقی حالت بھی درست ہے۔اپنے پردے اتارنے سے پہلے مردوں کے اخلاق کو درست کرلو، گارنٹی لے لو کہ ان کے اخلاق درست ہو گئے ہیں پھر ٹھیک ہے پردے اتار دو۔اگر یہ درست ہو جاوے اور مردوں میں کم از کم اس قدر قوت ہو کہ وہ اپنے