اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ اوّل) — Page 266
الازهار لذوات الخمار جلد سوم حصہ اوّل 266 جلسہ سالانہ کینیڈ 1 2005 مستورات سے خطاب ارادے کے ساتھ اس پر قائم رہیں تو خدا تعالیٰ ایسے سامان پیدا فرماتا ہے کہ وہ ضروریات کچھ تنگی کے بعد پوری ہو جاتی ہیں۔کیونکہ اللہ تعالیٰ کا یہ وعدہ ہے، اس لئے وہ یقینا تقویٰ پر قائم رہنے والے لوگوں کے لئے اپنا وعدہ ضرور پورا کرتا ہے۔یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ وعدہ کرے اور اس کو پورا نہ کرے۔اب پردہ بھی ایک اسلامی حکم ہے قرآنِ کریم میں بڑی وضاحت کے ساتھ اس کا ذکر ہے۔نیک عورتوں کی نشانی یہ بتائی گئی ہے کہ وہ حیادار اور حیا پر قائم رہنے والی ہوتی ہیں ، حیا کو قائم رکھنے والی ہوتی ہیں۔اگر کام کی وجہ سے آپ اپنی حیا کے لباس اُتارتی ہیں تو قرآنِ کریم کے حکم کی خلاف ورزی کرتی ہیں۔اگر کسی جگہ کسی ملازمت میں یہ مجبوری ہے کہ جینز اور بلاؤز پہن کر سکارف کے بغیر ٹوپی پہن کر کام کرنا ہے تو احمدی عورت کو یہ کام نہیں کرنا چاہئے۔جس لباس سے آپ کے ایمان پر زد آتی ہواُس کام کو آپ کو لعنت بھیجتے ہوئے رد کر دینا چاہیے کیونکہ حیا ایمان کا حصہ ہے۔اگر آپ پیسے کمانے کے لئے ایسا لباس پہن کر کام کریں جس سے آپ کے پردے پر حرف آتا ہو تو یہ کام اللہ تعالیٰ کو آپ کا متولی بننے سے روک رہا ہے۔یہ کام جو ہے اللہ تعالیٰ کو آپ کا دوست بننے سے، آپ کی ضروریات پوری کرنے سے روک رہا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ تو ایمان والوں کی ضروریات پوری کرتا ہے، تقویٰ پر چلنے والوں کی ضروریات پوری کرتا ہے۔کوئی بھی صالح عورت یہ برداشت نہیں کر سکتی کہ اس کا ننگ ظاہر ہو یا جسم کے اُن حصوں کی نمائش ہو جن کو چھپانے کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے۔پس آپ کو اس مغربی معاشرے میں رہتے ہوئے جہاں اپنی اور اپنی نسلوں کی حفاظت کے لئے اور بھی بہت سے مجاہدے کرنے ہیں وہاں پر دے کا مجاہدہ بھی کریں کیونکہ آج جب آپ پردے سے آزاد ہوں گی تو اگلی نسلیں اُس سے بھی آگے قدم بڑھائیں گی۔حضرت اقدس مسیح موعود فرماتے ہیں یورپ کی طرح بے پردگی پر بھی لوگ زور دے رہے ہیں۔لیکن یہ ہرگز مناسب نہیں۔یہی عورتوں کی آزادی فسق و فجور کی جڑ ہے۔جن ممالک نے اس قسم کی آزادی کو روا رکھا ہے ذرا ان کی اخلاقی حالت کا اندازہ کرو“۔آپ ان ملکوں میں رہتے ہیں ، دیکھ لیں اس آزادی کی وجہ سے کیا اُن کے اخلاق کے اعلیٰ معیار قائم ہیں؟۔