اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ اوّل) — Page 265
الازھار لذوات الخمار جلد سوم حصّہ اوّل 265 جلسہ سالانہ کینیڈ 2005 مستورات سے خطاب ہے اور بعض گناہ اس سے ویسے بھی سرزدہوتے ہیں۔جتنے انسان کے عضو ہیں ہر ایک عضو اپنے اپنے گناہ کرتا ہے۔انسان کا اختیار نہیں کہ بچے۔اللہ تعالیٰ اگر اپنے فضل سے بچاوے تو بچ سکتا ہے۔پس اللہ تعالیٰ کے گناہ سے بچنے کے لئے یہ آیت ہے إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ (الفاتحہ:5)۔جو لوگ اپنے ربّ کے آگے انکسار سے دعا کرتے رہتے ہیں کہ شاید کوئی عاجزی منظور ہو جاوے تو ان کا اللہ تعالیٰ خود مددگار ہو جاتا ہے۔( ملفوظات جلد سوم ، جدید ایڈیشن ، صفحہ 374) پس اگر اللہ تعالیٰ کے فضلوں کا وارث بننا ہے جو کہ یقیناً ہر احمدی عورت کی خواہش ہے تو تقویٰ پر قدم مارتے ہوئے اپنے تقویٰ کے معیاروں کو اونچا کرتے ہوئے خود بھی قدم بڑھانے ہونگے اور اپنی اولاد کی بھی ایسے رنگ میں ترقی کرنی ہوگی کہ وہ آپ کے بعد آپ کا نام روشن کرنے والی ہو۔اللہ تعالیٰ آپ کو بھی اور آپ کی اولاد کو بھی صالحین کی جماعت میں شامل فرمائے۔خود آپ کا کفیل ہو، آپ کی ضروریات کو پورا کرنے والا ہو، آپ کو اور آپ کی نسل کو حضرت مسیح موعود کی آمد کا مقصد پورا کرنے والا بنائے اور کوئی ایسا فعل آپ یا آپ کی اولاد سے سرزد نہ ہو جو جماعت کی بدنامی کا باعث ہو۔احمدی عورت کو ہمیشہ ایسی ملازمت کرنی چاہیے جہاں اس کا وقار اور تقدس قائم رہے اس ضمن میں یعنی اللہ تعالیٰ کے غیب سے رزق دینے کے بارے میں ایک اور بات بھی میں کہنا چاہتا ہوں کہ یہ ٹھیک ہے کہ یہاں ان مغربی ملکوں میں بعض مجبوریوں کی وجہ سے بعض خواتین کو ملا زمت بھی کرنی پڑتی ہے، نوکریاں کرنی پڑتی ہیں لیکن احمدی عورت کو ہمیشہ ایسی ملازمت کرنی چاہیے جہاں اس کا وقار اور تقدس قائم رہے۔کوئی ایسی ملازمت ایک احمدی عورت یا احمدی لڑکی کو نہیں کرنی چاہیے جس سے اسلام کے بنیادی حکموں پر زد آتی ہو، جس سے آپ پر انگلیاں اٹھیں۔اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ میں نیک لوگوں کو ، تقویٰ پر قائم لوگوں کو رزق مہیا فرماتا ہوں، ان کی ضروریات پوری کرتا ہوں۔اگر خالص ہو کر اس کی خاطر کچھ قربانی بھی کرنی پڑے تو ایک عزم اور