اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ اوّل)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 263 of 377

اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ اوّل) — Page 263

الازهار لذوات الخمار جلد سوم حصہ اوّل 263 جلسہ سالانہ کینیڈ 2005 مستورات سے خطاب بہت معمولی ہے لیکن اس عمر کے بعد کیونکہ مغربی معاشرے میں مرد زیادہ آزاد ہیں اور عموماً یہاں ایک عمر کے بعد دیکھا گیا ہے کہ جب بچے بڑے ہونے کی عمر کو پہنچ رہے ہوتے ہیں تو ( عورت اور مرد کے تعلقات بھی خراب ہونے شروع ہو جاتے ہیں ) اس وقت مرد بچوں کو کھینچنے کے لئے اور کچھ ماحول کے زیر اثر بچوں کو آزادی کی طرف چلاتا ہے اور اس وجہ سے بچے مردوں کی طرف زیادہ مائل ہو جاتے ہیں کیونکہ وہ روک ٹوک نہیں کر رہے ہوتے ، اس معاشرے کی گندگیوں اور غلاظتوں میں پڑنے سے باپ اپنے بچوں کو اس طرح نہیں روک رہے ہوتے اس لئے باپوں کی طرف زیادہ رجحان ہو جاتا ہے۔لیکن اس عمر میں بھی جن ماؤں نے بچوں کو صحیح طرح سنبھالا ہوتا ہے ان کے بچوں کا رجحان ماؤں کی طرف زیادہ ہوتا ہے۔تو یہ سبق جو آج پتہ لگ رہا ہے یہ سبق ہمیں پہلے ہی اسلام نے دے دیا کہ مائیں گھر کی نگران کی حیثیت سے بچوں کی تربیت کی زیادہ ذمہ دار ہیں۔اس لئے وہ بچوں کو اپنے ساتھ لگائیں اور ان کی تربیت کا حق ادا کریں ، ان کو برے بھلے کی تمیز سکھائیں۔اگر اس صحیح رنگ میں تربیت کرنے کی وجہ سے ان کی نفسیات کو سمجھ کر ان کو برے بھلے کی تمیز سکھا کر صحیح دین کی واقفیت ان کے ذہنوں میں پیدا کر کے ان کو سنبھا لوگی تو پھر آپ اگلی نسل کو سنبھالنے والی کہلا سکتی ہیں، تب آپ اپنے خاوند کے گھروں کی حفاظت کرنے والی کہلا سکتی ہیں۔اولاد کی تربیت کیلئے اپنے پاک نمونے قائم کریں پس ہر عورت کو اس اہم امر کی طرف بڑی توجہ دینی چاہئے کہ وہ اپنی اولاد کی اس رنگ میں تربیت کرے اور یہ تربیت اپنے پاک نمونے قائم کرتے ہوئے ایسے اعلیٰ معیار کی ہو جس کو دیکھ کر یہ کہا جا سکے کہ ایک احمدی ماں خود بھی ایک ایسا پاک خزانہ ہے جو اللہ تعالیٰ کے فضل کو سمیٹنے والا ہے اور ان کی اولا دیں بھی ایک ایسا پاک مال ہیں جو اپنی ماں کی تربیت کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کا پسندیدہ مال بن چکا ہے، جس پر اللہ تعالیٰ کے پیار کی نظر ہے، جس کی پاک تربیت کو دیکھ کر دنیا رشک کرتی ہے۔جو کسی چیز کا اگر حرص اور لالچ رکھتا ہے تو وہ دنیاوی چیزوں کا نہیں بلکہ دین میں آگے بڑھنے کا ہے، اپنے ماں باپ کا نام روشن کرنے کا ہے، نیکیوں پر قائم ہونے کا ہے، اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کا ہے۔ایک حدیث میں آتا ہے حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب آیت کریمہ