اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ اوّل) — Page 262
الازهار لذوات الخمار جلد سوم حصہ اوّل 262 جلسہ سالانہ کینیڈ 2005 مستورات سے خطاب 66 بار یک نیکی کی رعایت کرنے والا ہے۔‘“ یعنی چھوٹی سے چھوٹی نیکی کرنے والا ہے۔یہ تو ٹھیک ہے کہ مردوں کو ایسا کرنا چاہئے لیکن نیک عورت اور خدا کا خوف رکھنے والی عورت ، ایک احمدی عورت اور ایمان میں مضبوط عورت کی یہ پہچان بھی ہمیں قرآن کریم نے بتائی ہے کہ فَالصَّلِحْتُ قيمت حفِظتُ لِلْغَيْبِ بِمَا حَفِظَ اللَّهُ (النساء: 35) یعنی پس نیک عورتیں فرمانبردار اور غیب میں بھی ان چیزوں کی حفاظت کرنے والی ہوتی ہیں جن کی حفاظت کی اللہ نے تاکید کی ہے۔ان تاکید کی جانے والی چیزوں میں سے ایک اولاد کی تربیت بھی ہے۔ایک حدیث میں آتا ہے کہ عورت اپنے خاوند کے گھر کی نگران بنائی گئی ہے وہ اس کی غیر حاضری میں اس کے گھر اور اس کی اولاد کی نگرانی اور حفاظت کی ذمہ دار ہے۔مجھتی تربیت اولا دعورت پر سب سے زیادہ فرض ہے پس یہ تربیت اولا دعورت پر سب سے زیادہ فرض ہے۔جب تک احمدی عورت اس ذمہ داری کو رہے گی اور اپنے بچوں کی دنیاوی تعلیم و تربیت کے ساتھ ساتھ ان سے بڑھ کر دینی تعلیم و تربیت کی طرف بھی توجہ دیتی رہے گی تو اللہ تعالیٰ کے فضل سے نیک نسل پروان چڑھتی رہے گی۔بچوں نے کیونکہ زیادہ وقت ماں کے زیر سایہ گزارنا ہوتا ہے اس لئے ماں کا اثر بہر حال بچوں پر زیادہ ہوتا ہے۔اس مغربی معاشرے میں بھی جہاں لوگوں کا خیال ہے کہ جب بچے سکول جانا شروع ہوجاتے ہیں ( کیونکہ یہاں تو چھوٹی عمر میں سکول جانا شروع ہو جاتے ہیں ) تو اس ماحول کے زیر اثر وہ ہماری باتیں نہیں مانتے۔لیکن جائزہ لیا گیا ہے اور ایک ریسرچ ہوئی ہے جو چھپی ہوئی ہے اس میں بچوں کے کوائف لئے گئے ہیں کہ وہ اپنے والدین میں سے کس سے زیادہ متاثر ہیں، کس کی زیادہ بات مانتے ہیں۔تو ایک بڑی تعداد کے یہ نتائج سامنے آئے ہیں کہ پندرہ سولہ سال کی عمر تک لڑکے بھی ،صرف لڑکیاں نہیں ، بلکہ لڑکے بھی اپنی ماؤں سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔ان کی بات کو زیادہ وزن دیتے ہیں، ان سے دوستی کا تعلق رکھتے ہیں، ان سے راز و نیاز کی باتیں کر لیتے ہیں جبکہ باپوں سے یہ تعلق