اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ اوّل) — Page 261
الازهار لذوات الخمار جلد سوم حضہ اوّل 261 جلسہ سالانہ کینیڈ 2005 مستورات سے خطاب ضائع نہ ہواور اللہ تعالیٰ کا قرب پانے والی ہو۔آپ اپنی ذمہ داری نبھا ئیں۔وہ مثالیں قائم کریں جو پہلوں نے قائم کی تھیں۔جب آنحضرت کے صحابہ عبادتوں میں بڑھنے اور اللہ تعالیٰ کا قرب پانے کی کوشش کرتے تھے تو صحابیات بھی پیچھے نہیں رہتی تھیں ان میں بھی ایسی خواتین تھیں جو اس نکتہ کو سمجھنے والی تھیں کہ انسان کی پیدائش کا مقصد اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنا ہے اور اس سے ہی خدا تعالیٰ کا قرب حاصل ہوگا۔اس کے لئے وہ اپنے آپ کو تکلیف میں ڈال کر بھی عبادتیں کیا کرتی تھیں، راتوں کو جاگتی تھیں، نیند آنے کی صورت میں رستے لٹکائے ہوتے تھے جن کو پکڑ کر سہارا لے کر عبادتیں کرتی تھیں یہاں تک کہ بعض صحابہ کو یہ شکوہ تھا کہ ان کی بیویاں ضرورت سے زیادہ اپنے آپ کو عبادتوں میں مشغول رکھتی ہیں۔راتیں بھی عبادت میں گزارتی ہیں اور دن ان کے روزوں میں گزرتے ہیں اور نتیجہ وہ مردوں کے حقوق ادا نہیں کرتیں، اپنی اولاد کے حقوق ادا نہیں کرتیں۔آنحضرت کے پاس یہ شکایات آتی تھیں کہ ان کو روکیں کہ ہمارے بھی حقوق ادا کریں اور بچوں کے بھی حقوق ادا کریں ،صرف اپنی عبادتوں کی فکر نہ کریں انہی میں وقت نہ گزاریں۔اس بات پر آنحضرت نے ایسی عورتوں کو تاکید فرمائی کہ اپنے مردوں کے حقوق ادا کریں اور اپنی عبادتوں کو کم کریں۔یہ وہ مثالیں ہیں جو ہمارے لئے نمونہ بننے والی خواتین ہمارے سامنے رکھ گئی ہیں۔اب آپ کو بھی جائزہ لینا چاہئے کہ کیا ان عبادتوں کی ہلکی سی جھلک بھی آپ میں نظر آتی ہے۔ہر ایک خود اپنا جائزہ لے۔اگر نہیں، تو ہمیں فکر کرنی چاہیے کہ اس مادی دنیا میں اگر عبادتوں کی طرف توجہ نہ دی تو پھر اگلی نسل جو آپ کی گودوں میں پل رہی ہے اور پلنی ہے جس نے جماعت کی ذمہ داریاں سنبھالنی ہیں ، جن کو عبادتوں کے اعلیٰ معیار قائم کرنے چاہئیں ، کیا ان نمونوں سے وہ اعلیٰ معیار حاصل کر سکتے ہیں۔پس اپنے مقصد پیدائش کو پورا کرنے کی خاطر، اپنی نسلوں کو اس مقصد کی پہچان کرانے کی خاطر ہمیں اپنی عبادتوں کی طرف بھی توجہ دینی چاہیے جیسا کہ میں نے پہلے بھی کہا کہ یہ ٹھیک ہے کہ مردوں کو اپنے نمونے قائم کرنے چاہئیں بلکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام تو فرماتے ہیں کہ ” مرد کو ایسا نمونہ دکھانا چاہئے کہ عورت کا یہ مذہب ہو جاوے کہ میرے خاوند جیسا اور کوئی بھی نیک دنیا میں نہیں ہے۔اور وہ یہ اعتقاد کرے کہ یہ باریک سے