اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ اوّل)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 255 of 377

اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ اوّل) — Page 255

الازهار لذوات الخمار جلد سوم حصہ اوّل 255 خطبہ جمعہ فرموده 24 جون 2005 (اقتباس) کچھ مرد غلط الزام لگا کر بیویوں کو چھوڑ دیتے ہیں جو کسی طرح بھی جائز نہیں کچھ مرد غلط اور غلیظ الزام لگا کر بیویوں کو چھوڑ دیتے ہیں جو کسی طرح بھی جائز نہیں۔ایسے لوگوں کا تو قضا کو کیس سننا ہی نہیں چاہئے جو اپنی بیویوں پر الزام لگاتے ہیں۔ان کو سیدھا انتظامی ایکشن لے کر امیر صاحب کو اخراج کی سفارش کرنی چاہئے۔غرض کہ ایک گند ہے جو کینیڈا سمیت مغربی ملکوں میں پیدا ہورہا ہے۔اور پھر اس طبقے کے لوگ ایک دوسرے کو تکلیف پہنچا کر خوش ہوتے ہیں۔بعض بچیوں کے جب دوسری جگہ رشتے ہو جاتے ہیں تو ان کو تڑوانے کے لئے غلط قسم کے خط لکھ رہے ہوتے ہیں۔کوئی خوف نہیں ایسے لوگوں کو۔اللہ تعالیٰ کے عظمت و جلال کی ان کو کوئی بھی فکر نہیں ہے۔اللہ تعالیٰ کے سایہ رحمت سے دور رہنے کی ان کو کوئی بھی پروا نہیں ہوتی۔اللہ تعالیٰ کے رسول اللہ کے حکم کے خلاف چلتے ہیں اور بجائے اس کے کہ ایک دوسرے کی تکلیف کو محسوس کریں اور اس تکلیف پر ایک جسم کی طرح، جس طرح جسم کا کوئی عضو بیمار ہونے سے تکلیف ہوتی ہے اُسے محسوس کریں، بے چینی کا اظہار کریں وہ بے حسی میں بڑھ جاتے ہیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تو تمام مومنوں کو یہ فرما رہے ہیں کہ ایک لڑی میں پروئے جانے کے بعد تم ایک دوسرے کی تکلیف کو محسوس کرو۔میاں بیوی کا بندھن تو اس سے بھی آگے قدم ہے۔اس سے بھی زیادہ مضبوط بندھن ہے۔یہ تو ایک معاہدہ ہے جس میں خدا کو گواہ ٹھہرا کر تم یہ اقرار کرتے ہو کہ ہم تقویٰ پر قائم رہتے ہوئے ایک دوسرے کے حقوق ادا کرنے کی کوشش کریں گے۔تم اس اقرار کے ساتھ ان کے لئے اپنے عہد و پیمان کر رہے ہوتے ہو کہ تقویٰ پر قائم رہتے ہوئے ہم ہر وقت اس فکر میں رہیں گے کہ ہم کن کن نیکیوں کو آگے بھیجنے والے ہیں۔وہ کون سی نیکیاں ہیں جو ہماری آئندہ زندگی میں کام آئیں گی۔ہمارے مرنے کے بعد ہمارے درجات کی بلندی کے کام بھی آئیں۔ہماری نسلوں کو نیکیوں پر قائم رکھنے کے کام بھی آئیں۔اللہ تعالیٰ کی اس وارننگ کے نیچے یہ عہد و پیمان کر رہے ہوتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ خبیر ہے۔جو کچھ تم اپنی زندگی میں اپنے ساتھیوں کے ساتھ کرو گے یا کر رہے ہو گے دنیا سے تو چھپا سکتے ہو لیکن خدا تعالیٰ کی ذات سے نہیں چھپا سکتے۔وہ تو ہر چیز کو جانتا ہے۔دلوں کا حال بھی جاننے والا ہے۔دنیا کو دھوکا دے سکتے ہو کہ ( میری بیوی نے یہ کچھ کیا تھا یا -