اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ اوّل)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 21 of 377

اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ اوّل) — Page 21

الازهار لذوات الخمار جلد سوم حصہ اوّل 21 جلسہ سالانہ برطانیہ 2003 مستورات سے خطاب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو چھوٹی بات نہیں سمجھا اور ہمیں اپنے عمل سے یہ آداب سکھائے ہیں۔حدیث میں ہے کہ حضرت ابن عمر بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم میں سے کوئی بائیں ہاتھ سے نہ کھائے اور نہ پئے کیونکہ شیطان بائیں ہاتھ سے کھاتا پیتا ہے۔مسلم۔كتاب الأشربة باب آداب الطعام والشراب) پھر حضرت عمرو بن ابی سلمہ جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ربیب تھے، بیان کرتے ہیں کہ بچپن میں میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر میں رہتا تھا، کھانا کھاتے وقت میرا ہاتھ تھالی میں پھر تی سے ادھر ادھر گھومتا تھا۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے میری اس حرکت کود یکھ کر فرمایا: ”اے بچے! کھانا کھاتے وقت بسم اللہ پڑھو اور اپنے دائیں ہاتھ سے کھاؤ اور اپنے آگے سے کھاؤ۔اس وقت سے لے کر میں ہمیشہ حضور ﷺ کی اس نصیحت کے مطابق کھانا کھاتا ہوں۔“ (صحیح بخاری كتاب الأطعمه باب التسمية على الطعام والأكل باليمين) حضرت عکراش بیان کرتے ہیں کہ بنو مُرہ نے اپنے اموال صدقہ دے کر مجھے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھیجا۔جب میں مدینہ میں حضور کی خدمت میں حاضر ہوا ، اس وقت حضور مہاجرین اور انصار کے درمیان رونق افروز تھے۔حضور نے میرا ہاتھ پکڑا اور ام سلمہ کے گھر لے گئے اور ان سے دریافت کیا: کیا کھانے کی کوئی چیز ہے؟ انہوں نے شرید کا پیالہ پیش کیا جس میں ثرید اور بوٹیاں کافی تھیں۔ہم اس میں سے کھانے لگے۔میں کبھی ادھر سے اور کبھی ادھر سے کھا تا اور حضور اپنے سامنے سے کھا رہے تھے۔حضور نے اپنے بائیں ہاتھ سے میرا دایاں ہاتھ پکڑا اور فرمایا: اے عکراش! کھانا ایک جگہ سے کھاؤ، تمام کھانا ایک ہی طرح کا ہے۔پھر ہمارے سامنے ایک طشت لایا گیا جس میں مختلف قسم کے کھجور یا ڈو کے تھے۔میں تو سامنے سے کھانے لگا اور حضور اپنی پسند کے مطابق کبھی ادھر سے اور کبھی اُدھر سے چن چن کر کھاتے اور فرمایا: اے عکراش! اپنی پسند کی پچن چن کر کھاؤ کہ مختلف اقسام کی ہیں۔پھر پانی لایا گیا۔حضور نے اپنا ہاتھ دھویا اور اپنا گیلا ہاتھ اپنے چہرے، سر اور بازوؤں پر پھیرا اور فرمایا: اے عکراش! یہ آگ پر پکی ہوئی چیز کا وضو ہے یعنی کھانے کے بعد ہاتھ صاف کر لئے جائیں۔(ترمذی ابواب الأطعمة۔باب ما جاء في التسمية على الطعام)