اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ اوّل)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 242 of 377

اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ اوّل) — Page 242

الازهار لذوات الخمار جلد سوم حصہ اوّل 242 جلسہ سالانہ تنزانیہ 2005 مستورات سے خطاب میں اپنے بچوں کی نیک تربیت اور دیکھ بھال کرتی ہیں ان کا مقام بہت بلند ہے۔بلکہ جہاد کرنے کے برابر درجہ ہے۔چنانچہ ایک روایت میں آتا ہے۔حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ایک عورت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی ،اس نے کہا: اے اللہ کے رسول ! مجھے عورتوں نے آپ کے پاس اپنا نمائندہ بنا کر بھیجا ہے اور آپ سے پوچھا ہے کہ کیا جہا د صرف مردوں پر فرض ہوا ہے کہ اگر وہ زخمی ہو جائیں تو اجر پائیں اور شہید ہو جائیں تو اپنے رب کے پاس زندہ رہیں گے، اس کے انعامات سے فائدہ اٹھارہے ہوں گے مگر ہم عورتیں جو ان کے پیچھے ان کے گھروں اور بچوں کی نگرانی کرتی ہیں ہمیں کیا اجر ملے گا؟ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جن عورتوں سے تم ملوان کو یہ بات پہنچا دو کہ شوہروں کی اطاعت کرنا اور ان کے حقوق کو پہچاننا جہاد کے برابر درجہ رکھتا ہے۔لیکن تم میں سے بہت کم عورتیں ایسا کرتی ہیں۔تو دیکھیں مسلمان عورتیں کس طرح بے چین رہا کرتی تھیں کہ ثواب کے موقعے ملیں۔اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کے موقعے ملیں۔اور صحابہ کے بچوں کی نگہداشت اور پرورش ان کی بیویاں اس نیت سے کر رہی ہوتی تھیں کہ ان کو سکون سے اللہ تعالیٰ کے راستے میں جہاد کرنے دیا جائے اور بچوں کی طرف سے بے فکر رکھا جائے۔لیکن ساتھ یہ بھی سوچ تھی کہ ہمیں اس کا ثواب بھی مل رہا ہے یا نہیں۔تو اللہ کے رسول نے فرمایا ہاں تمہیں بھی ان کے برابر ثواب اور اجر ملے گا۔اگر تم بچوں کی نیک تربیت کر رہی ہو۔اولاد کی صحیح تربیت کریں تا کہ وہ معاشرے کا ایک اچھا حصہ بنے اس حدیث میں جو اصل سبق ہے وہ یہ نہیں کہ صرف جہاد کرنے والے لوگوں کی بیویوں کو ان کے بچوں کو پالنے کی وجہ سے اجر ملے گا۔بلکہ سبق یہ ہے کہ عورت جب اپنے خاوند کے حقوق ادا کرے اور اس کے بچوں کی صحیح طریق سے نگہداشت اس لئے کر رہی ہے کہ اس کی اور اس کے خاوند کی اولاد برباد نہ ہو، بلکہ معاشرے کا ایک اچھا حصہ بنے تو اللہ اجر دیتا ہے۔تلوار کا جہاد تو اب حضرت مسیح موعود کے آنے کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیش گوئیوں کے مطابق ختم ہو گیا۔اب جہاد یہی ہے کہ