اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ اوّل) — Page 209
الازھار لذوات الخمار جلد سوم حصّہ اوّل 209 خطبه جمعه فرمود 3 دسمبر 2004 (اقتباس) میں نے ایک بار پہلے بھی بیان کیا تھا کہ میں نے ایک رؤیا میں دیکھا کہ میں ایک جنگل میں کھڑا ہوں۔شرقاً غرباً اس میں ایک بڑی نالی چلی گئی ہے اس نالی پر بھیٹر میں لٹائی ہوئی ہیں اور ہر ایک قصاب کے جو ہر ایک بھیڑ پہ مسلط ہے۔( ہر ایک بھیڑ کے اوپر ایک قصائی کھڑا ہے۔) ہاتھ میں چھری ہے جو انہوں نے ان کی گردن پر رکھی ہوئی ہے اور آسمان کی طرف منہ کیا ہوا ہے“ کہ ان کے بارے میں کیا حکم ہے۔میں ان کے پاس ٹہل رہا ہوں۔میں نے یہ نظارہ دیکھ کر سمجھا کہ یہ آسانی حکم کے منتظر ہیں۔تو میں نے یہی آیت پڑھی قُلْ مَا يَعْبُوا بِكُمْ رَبِّي لَوْ لَا دُعَاؤُكُمْ (الفرقان : 78 ) یہ سنتے ہی ان قصابوں نے فی الفور چھریاں چلا دیں۔یعنی ان کی گردنوں پر چھریاں پھیر دیں، ذبح کر دیا۔اور یہ کہا کہ تم ہو کیا ؟ آخر گوہ کھانے والی بھیڑیں ہی ہو“۔گند کھانے والی بھیڑیں ہی ہونا۔فرمایا: غرض خدا تعالیٰ متقی کی زندگی کی پرواہ کرتا ہے اور اس کی بقا کو عزیز رکھتا ہے۔اور جو اس کی مرضی کے برخلاف چلے وہ اس کی پرواہ نہیں کرتا اور اس کو جہنم میں ڈالتا ہے۔اس لئے ہر ایک کو لازم ہے کہ اپنے نفس کو شیطان کی غلامی سے باہر کرے۔جیسے کلوروفارم نیند لاتا ہے اسی طرح پر شیطان انسان کو تباہ کرتا ہے اور اسے غفلت کی نیند سلاتا ہے اور اسی میں اس کو ہلاک کر دیتا ہے۔“ (الحکم قادیان جلد 5 نمبر 30 مورخہ 17/اگست 1901ء صفحہ 1) تو یہاں جو آپ کو رویا میں دکھایا گیا کہ جو لوگ اللہ تعالیٰ کی عبادت نہیں کرتے اور ان کی حیثیت جانوروں کی طرح کی ہے۔اور ان کو نقصان پہنچتا ہے تو ان کی کوئی بھی پرواہ نہیں کرتا۔اللہ تعالیٰ ان کی بالکل بھی حفاظت نہیں فرماتا بلکہ آپ نے فرمایا کہ وہ جہنم میں ڈالتا ہے۔ایک روایت میں آتا ہے حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی ﷺ نے