اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ اوّل)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 207 of 377

اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ اوّل) — Page 207

الازهار لذوات الخمار جلد سوم حصہ اوّل 207 خطبه جمعه فرمود 3 دسمبر 2004 (اقتباس) ہر عقلمند انسان اس طرف زیادہ راغب ہوگا جہاں اس کو زیادہ فائدہ نظر آتا ہوگا۔دنیاوی معاملات میں تو ہر کوئی فائدہ دیکھتا ہے لیکن اللہ کے معاملے میں اس طرف نظر نہیں جاتی۔حالانکہ اللہ تعالیٰ نے بڑا واضح طور پر فرمایا ہے کہ تمام فائدے تمہیں مجھ سے ہی ملنے ہیں۔اور میری طرف ہی جھکو۔عبادت کرو، تکبر کو چھوڑ و۔اور کیوں اللہ تعالیٰ کے معاملے میں یہ نہیں ہوتا ؟ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے چھوٹ دی ہوئی ہے۔اکثر دفعہ اپنی عبادت نہ کرنے والے یا شریک ٹھہرانے والوں کی فوری طور پر پکڑا نہیں کرتا، کیونکہ کھلی چھٹی دی ہوئی ہے کہ چاہے تو میری طرف آؤ، چاہے تو شیطان کی طرف جاؤ۔لیکن یہ بھی فرما دیا کہ شیطان کی طرف جا کر میرے انعاموں سے بھی محروم رہو گے اور دنیا میں بھی بعض دفعہ پکڑ ہوسکتی ہے اور بہر حال آخرت میں تو یقینی پکڑ ہے اگر اللہ تعالیٰ کی عبادت نہ کرنے والے ہو گے۔تو بہر حال مالک کو حق ہوتا ہے کہ جو اصول وضع کئے گئے ہیں ان پر عمل نہ کرنے والوں کو سزا دے۔لیکن اللہ تعالیٰ کے معاملے میں بعض عقلمند بننے والے یہ کہتے ہیں کہ سزا کا بھی حق نہیں ہونا چاہئے ، اور عبادت بھی جو مرضی کرے جو نہ کرے، چھوٹ ہونی چاہئے۔چھوٹ تو ہے لیکن بہر حال پھر مالک ہونے کی حیثیت سے اس کو سزا کا بھی حق ہے اسی کو پکڑ کا بھی حق ہے۔اس پر اعتراض ہو جاتا ہے کہ انسان کو عبادت کے لئے پیدا کرنے کا جو اصول بنایا ہے یہ بڑا غلط ہے اللہ تعالیٰ اپنی عبادت زبر دستی کروانا چاہتا ہے۔جبکہ اللہ تعالیٰ تو یہ سب کچھ کروا کر انعامات سے نواز رہا ہے۔جابر حکمران کی طرح یہ نہیں کہہ رہا کہ بس ہر صورت میں یہ کرو جس طرح بیگار لی جاتی ہے۔بلکہ نہ صرف انعامات سے نوازتا ہے جہاں آسانی کی ضرورت ہے عبادتوں میں آسانی بھی پیدا فرماتا ہے۔جیسا کہ سفر میں ، بیماری میں کافی سہولتیں مہیا ہیں۔روزے دار کے لئے بھی نماز پڑھنے والے کے لئے بھی۔تو اس پر تو بجائے زبردستی کا تصور قائم کرنے کے انسان جتنا سوچے اللہ تعالیٰ کی رحمت کا تصور ابھرتا ہے۔اور پھر اس کی حمد اور اس کی عبادت کی طرف مزید توجہ پیدا ہوتی ہے۔لیکن اگر پھر بھی کوئی یہی رٹ لگائے رکھتا ہے کہ عبادت بڑی مشکل ہے اور عبادت کس لئے کی جاتی ہے، اور عبادت کی طرف نہیں آتا اور بے عقلوں کی طرح صرف دلیلیں دیئے چلا جاتا ہے اور وہ بھی اوٹ پٹانگ دلیلیں۔تو اللہ تعالیٰ جس نے نواز نے کے لئے بندے کو عبادت کا حکم دیا ہے، بندے کے اپنے فائدے کے لئے عبادت کا حکم دیا ہے فرماتا ہے کہ اگر تم پھر بھی نہیں مانتے، انکار پر مصر ہو، اس پہ اصرار کئے جارہے ہو تو پھر خدا کو بھی تمہاری کوئی پرواہ نہیں۔اسے کوئی شوق نہیں ہے کہ تمہارے