اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ اوّل) — Page 206
الازهار لذوات الخمار جلد سوم حصہ اوّل 206 خطبه جمعه فرمود 3 دسمبر 2004 (اقتباس) یہ سوچنے کا موقع ہی نہیں ملتا کہ یہ ہو کیا رہا ہے اور تم اس بارے میں سوچنا بھی نہیں چاہتے۔جن مسلمان ملکوں اور لیڈروں کے پاس حکومتیں ہیں ان کو اس طرف سوچنے کی فرصت ہی نہیں ہے نہ ہی سوچنا چاہتے ہیں۔اور یہ سب جیسا کہ میں نے کہا یہ دنیا داری ہی ہے، یہ عبادتوں میں کمی ہی ہے جس نے امت مسلمہ کی یہ حالت کر دی ہے، یہاں تک پہنچا دیا ہے۔پس یہ سوال اٹھانے کی بجائے کہ اللہ کو عبادتوں کی کیا ضرورت ہے اور عبادت مشکل ہے اور اس زمانے میں اس طرح ادائیگیاں نہیں ہو سکتیں ، ہر احمدی مسلمان ہر دوسرے مسلمان کو یہ سمجھائے، ہر دوسرے کو سمجھائے کہ یہ کھوئی ہوئی شان اگر دوبارہ حاصل کرنی ہے تو پھر عبادتوں کی طرف توجہ دو۔اللہ تعالیٰ کے احکامات پر عمل کرو کیونکہ مسلمان کہلا کر پھر اللہ تعالیٰ کی عبادت نہ کر کے ہم اس کے انعاموں کے وارث نہیں بن سکتے۔احمدی کی شان اور پہچان ہونی چاہئے کہ وہ اللہ کی عبادت کرنے والا ہو یا درکھو یہی مسلمان کی شان ہے اور یہی ایک احمدی کی بھی شان اور پہچان ہونی چاہئے اور ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے والا ہو۔اور یہی عبادتیں ہیں جو اسے عاجزی میں بھی بڑھائیں گی اور یہی عاجزی ہے جو پھر اسے اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرنے کا موقع بھی مہیا کرے گی۔اللہ تعالیٰ ان کو اپنے قرب میں جگہ دے گا اور اسے انعام بھی ملیں گے۔پس عقل کرو۔یہ بھی یاد رکھو کہ یہ انعام عاجز ہو کر عبادت کرنے والے کو ہی ملتے ہیں۔اور پھر یہ کہ عبادتیں کرنے والے عبادتوں میں تھکتے بھی نہیں، بے صبرے بھی نہیں ہو جاتے۔یہ سوال بھی نہیں اٹھاتے کہ پانچ وقت کی نمازیں پڑھنی مشکل ہیں۔بلکہ اپنی پیدائش کے مقصد کو پہچانتے ہوئے خدا تعالیٰ کے سامنے جھکے رہتے ہیں۔جیسے کہ فرماتا ہے :۔وَلَهُ مَنْ فِي السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَنْ عِنْدَهُ لَا يَسْتَكْبِرُوْنَ عَنْ عِبَادَتِهِ وَلَا يَسْتَحْسِرُوْنَ (الانبياء: 20) اور اسی کا ہے جو آسمانوں اور زمین میں ہے اور جو اس کے حضور رہتے ہیں اس کی عبادت کرنے میں استکبار سے کام نہیں لیتے اور نہ کبھی تھکتے ہیں۔تو جب آسمانوں اور زمین میں ہر چیز اسی کی ہے تو پھر اس سے زیادہ کون اہم ہے جس کی طرف توجہ دینے کی ضرورت ہے۔