اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ اوّل) — Page 205
الازھار لذوات الخمار‘ جلد سوم حضہ اوّل 205 خطبه جمعه فرمود 3 دسمبر 2004 (اقتباس) اور ان کے فائدے کے لئے ہی دیتا ہے۔اس بارے میں اس مضمون کو ایک اور جگہ بیان فرماتا ہے کہ أَمَّنْ يُجِيْبُ الْمُضْطَرَّ إِذَا دَعَاهُ وَيَكْشِفُ السُّوءَ وَيَجْعَلُكُمْ خُلَفَاءَ الْأَرْضِ وَ إِلَةٌ مَّعَ اللهِ قَلِيلًا مَّا تَذَكَّرُوْنَ (سورة المل :63) یا پھر وہ کون ہے جو بے قرار کی دعا کو قبول کرتا ہے جب وہ اسے پکارے۔اور تکلیف دور کر دیتا ہے اور تمہیں زمین کا وارث بناتا ہے۔کیا اللہ کے ساتھ کوئی اور معبود ہے؟ بہت کم ہے جو تم نصیحت پکڑتے ہو۔تو جیسا کہ میں پہلے بھی بیان کر آیا ہوں ایسے لوگ عبادت کے خلاف ہوتے ہیں یا بلا وجہ کا اعتراض اٹھا رہے ہوتے ہیں ان کو بھی تکلیف کے وقت دُعا یاد آ جاتی ہے۔وہ ان لوگوں کی طرح ہیں جن کے بارے میں ذکر آتا ہے کہ جب ان کو طوفان گھیر لیتا ہے تو رونا پیٹنا دعائیں کرنا شروع کر دیتے ہیں۔اور جب وہ طوفان ٹل جاتا ہے اور خشکی پر پہنچ جاتے ہیں تو پھر منکر ہو جاتے ہیں۔تو فرمایا یہ اللہ ہے جو اس طرح بے قراروں کی دعائیں سنتا ہے۔اور تکلیفیں دور کرتا ہے اور ہم یہ نظارے ماضی میں بھی دیکھ چکے ہیں۔انہی دعائیں کرنے والوں نے دنیا پر حکومت کی اور اللہ تعالیٰ نے ان کو زمین کا وارث بنایا۔اس لئے تمہارے لئے بھی یہی حکم ہے کہ اگر عبادتیں کرتے رہو گے تو اللہ تعالیٰ کے انعاموں سے بھی حصہ پاتے رہو گے۔جب عبادتوں کے معیار کم ہونے شروع ہوئے تو مسلمانوں کا رعب بھی ختم ہوتا رہا دیکھ لیں جب عبادتوں کے معیار کم ہونے شروع ہو گئے تو آہستہ آہستہ مسلمانوں کا رعب بھی ختم ہوتا رہا۔آج ہر طاقتور قوم ان سے جو سلوک کرنا چاہے کرتی ہے اور اب تو ساری دنیا دیکھ رہی ہے۔تو یا درکھو کہ یہ انعام انہی عبادتوں کی وجہ سے تھے جو ہمارے آباء واجداد نے کیں یا کرتے رہے، جوصحابہ نے کیں، ان کی وجہ سے فتوحات حاصل کیں۔اور یہ انعام اب بھی مل سکتے ہیں اور ملتے رہیں گے اگر عبادتوں کی طرف توجہ پیدا ہوتی رہی۔اور اگر تم یہ سمجھتے ہو کہ اس مادی دنیا میں اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور کی عبادت کر کے تم اپنی کھوئی ہوئی میراث حاصل کر لو گے، تو یہ وہم ہے۔لیکن مشکل یہ ہے کہ دنیا داری اور نفس پرستی نے اور دنیا کی چکا چوند نے اتنا زیادہ اپنے آپ میں منہمک کر دیا ہے کہ تمہیں