اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ اوّل) — Page 204
الازھار لذوات الخمار جلد سوم حصّہ اوّل 204 خطبه جمعه فرمود 3 دسمبر 2004 (اقتباس) ترقی اور کامیابی کا موجب ہے۔پس عبادت قرآن کریم کی رو سے خود بندے کے فائدے کے لئے ہے اور اس کی یہ وجہ ہے کہ عبادت چند ظاہری حرکات کا نام نہیں ہے بلکہ ان تمام ظاہری اور باطنی کوششوں کا نام ہے جو انسانوں کو اللہ تعالیٰ کی صفات کا مظہر بنا دیتی ہے۔کیونکہ عبد کے معنی اصل میں کسی نقش کے قبول کرنے اور پورے طور پر اس کے منشاء کے ماتحت چلنے کے ہوتے ہیں اور یہ ظاہر ہے کہ جو شخص کامل طور پر اللہ تعالیٰ کی منشا کے ماتحت چلے گا الہی صفات کو اپنے اندر پیدا کر لے گا اور ترقی کے اعلیٰ مدارج کو حاصل کر لے گا۔تو یہ امر خود اس کے لئے نفع رساں ہوگا نہ کہ اللہ تعالیٰ کے لئے۔بائبل میں جو یہ لکھا ہے کہ آدم کو اللہ تعالیٰ نے اپنی شکل پر پیدا کیا ( پیدائش باب (1) تو درحقیقت اس میں بھی اس امر کی طرف اشارہ ہے کہ انسان کو اس لئے پیدا کیا گیا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی صفات کو اپنے اندر پیدا کر سکے ورنہ اللہ تعالیٰ تمام شکلوں میں پاک ہے۔پس عبادت پر زور دینے کے محض یہ معنی ہیں اللہ تعالیٰ کے وجود کو اپنی آنکھوں کے سامنے رکھو کیونکہ کامل تصویر تبھی کھینچی جاسکتی ہے جب اس وجود کا نقشہ ذہن میں موجود ہو جس کی تصویر لینی ہو اور عبادت اللہ تعالیٰ کی صفات کو سامنے رکھنے اور ان کا نقش اپنے ذہن پر جمانے کا ہی نام ہے جس میں انسان کا فائدہ ہے نہ کہ اللہ تعالیٰ کا۔پھر فرماتے ہیں کہ اس مضمون کی طرف ایک حدیث میں بھی اشارہ ہے جس میں بیان ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک شخص نے سوال کیا کہ یا رسول اللہ ! ما الاحْسان؟ کامل عبادت کیا ہے۔تو آپ نے فرمایا کہ اَنْ تَعْبُدَ الله كَأَنَّكَ تَرَاهُ۔تو اللہ تعالیٰ کی عبادت اس طرح کرے کہ گویا معنوی طور پر وہ اپنی تمام صفات کے ساتھ تیرے سامنے کھڑا ہو جائے۔“ ( تفسیر کبیر جلد نمبر 3 صفحه 142-143) پھر جیسا کہ ذکر ہو چکا ہے، کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو نواز نے کے لئے ہی عبادت کا حکم دیتا ہے