اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ اوّل) — Page 193
الازهار لذوات الخمار جلد سوم حصہ اوّل 193 سالانہ اجتماع لجنہ برطانیہ 2004 سے خطاب میں نے کہا اللہ تعالیٰ سے آپ کی اولاد کا تعلق تبھی پیدا ہو گا جب وہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے والی اولا د ہوگی۔اس لئے جب آپ اپنی اولاد کی نیک تربیت کرنے والی ہوں گی تبھی آپ حَافِظات میں شمار ہوں گی۔اپنے آپ کی بھی حفاظت کرنے والی ہوں گی اور اپنی نسلوں کی بھی حفاظت کرنے والی ہوں گی۔کیونکہ آپ کی نسلوں کی بقا اس میں ہے کہ اپنی نسلوں کو اس معاشرے کی رنگینیوں سے بچا کر رکھیں۔ان کی اس رنگ میں تربیت کریں کہ ان کا اپنے پیدا کرنے والے خدا سے ایک زندہ اور سچا تعلق پیدا ہو جائے۔یہ ایک انتہائی اہم چیز ہے اور اس پر جتنا بھی زور دیا جائے وہ کم ہے۔اور یہ اس وقت تک نہیں ہو سکتا جب تک آپ خود اپنے عملی نمونے دکھانے والی نہیں ہوں گی۔اور یہ عملی نمونہ اور اللہ تعالیٰ کی بندگی کا یہ معیار خود بھی قائم کرنا ہے اور اپنی اولادوں کے اندر بھی پیدا کرنا ہے۔تب ہی یہ وہ قربانی ہوگی جس کا آپ عہد کرتی ہیں کہ میں مذہب کی خاطر جان قربان کرنے والی بنوں گی۔آج اللہ کے دین کی خاطر قربانی اسی بات کا نام ہے۔اس کے احکامات پر عمل کر کے خود بھی اعلیٰ معیار قائم کریں۔اپنی اولادوں کو بھی اعلیٰ معیار حاصل کروائیں اور معاشرے کو بھی اس کے عملی نمونے دکھا ئیں۔اپنی سوسائٹی میں، اپنے ماحول میں جہاں آپ رہتی ہیں وہاں بھی آپ کے عملی نمونے نظر آنے چاہئیں۔جب آپ یہ عملی نمونے قائم کریں گی تو اللہ تعالیٰ کے بے انتہا فضلوں کی وارث ٹھہریں گی اور ان کو حاصل کرنے والی ہوں گی۔اور جب اللہ تعالیٰ کے فضلوں کی بارش ہوتی ہے تو جس طرح سوکھی گھاس ہری ہو جاتی ہے اس طرح آپ نہ صرف دینی اور روحانی لحاظ سے سرسبز ہورہی ہوں گی ، خود بھی اور اپنی نسلوں کو بڑھا رہی ہوں گی بلکہ اس وجہ سے دنیاوی تعلق بھی آپ کے قائم ہورہے ہوں گے جو پہلے کسی وجہ سے ختم ہو چکے تھے۔اور خالص ہو کر اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے کی وجہ سے اللہ تعالیٰ خود آپ کالفیل ہو جائے گا، وہ خود آپ کی ہر ضرورت کا خیال رکھے گا، آپ کی ضروریات کو پورا کرے گا۔پھر ایک بہت بڑا عہد جو آپ نے کیا ہے وہ یہ ہے کہ معروف امور میں اطاعت کرنا۔وہ تمام کام جو اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو بتائے اور جن کو کھول کر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ہمارے سامنے پیش فرمایا ان پر عمل کرنا ضروری ہے۔وقتا فوقتا خلیفہ وقت کی طرف سے جو باتیں کی جاتی ہیں ان پر عمل کرنا ضروری ہے۔صرف سن لینا اور کہہ دینا کہ اللہ نے اس کی توفیق دی تو اس پر عمل