اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ اوّل)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 194 of 377

اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ اوّل) — Page 194

الازهار لذوات الخمار جلد سوم حصہ اوّل 194 سالانہ اجتماع لجنہ برطانیہ 2004 سے خطاب کریں گے یہ کافی نہیں ہے۔جب تک ایک لگن کے ساتھ ان پر عمل کرنے کی کوشش نہیں کریں گی کوئی فائدہ نہیں۔اور جب آپ ان باتوں پر عمل کرنے کی کوشش کریں گی اور اپنی اولا دوں کو بھی اس کی نصیحت کریں گی کہ ان پر عمل کرو، اپنے خاوندوں کو بھی اس طرف توجہ دلائیں گی کہ اس پر عمل کرو تو یہ نیکیاں جاری رکھنے کی وجہ سے آپ خلافت احمدیہ کی مضبوطی کا باعث بھی بن رہی ہوں گی جس کا آپ نے عہد کیا ہے۔میں نے آج کل تربیت کے مختلف موضوعات پر خطبات کا سلسلہ شروع کیا ہوا ہے، کافی ہو چکے ہیں۔اور یہ تمام وہ موضوع ہیں جو قرآن کریم نے ہمیں بتائے ہیں۔یعنی امانت کا حق ادا کرو، ایک دوسرے کی خاطر قربانی کی عادت ڈالو، سچ بولنے کی عادت ڈالو۔اب یہ جو سچ بولنے کی عادت ہے اس پر ہی اگر لجنہ کا شعبہ تربیت توجہ دے اور سو فیصد لجنہ کو سچ بولنے کی عادت پڑ جائے تو میں سمجھتا ہوں کہ آدھی سے زیادہ کمزوریاں ہماری دور ہو جائیں گی۔بعض عورتوں کو عادت ہوتی ہے کہ اس طرح توڑ مروڑ کر بیان کرتے ہیں کہ اصل جو بات ہوتی ہے اس کا کچھ سے کچھ بن جاتا ہے۔پھر غیبت نہیں کرنی۔اب یہ ایک ایسی عادت ہے جو معاشرے میں بہت رواج پکڑ رہی ہے۔کسی کے پیچھے کسی کی برائی نہیں کرنی کسی کی بات نہیں کرنی۔اور احمدی معاشرہ بھی اس کی لپیٹ سے باہر نہیں رہا ، اس کے اثر سے باہر نہیں رہا۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جب تم غیبت کرتے ہو تو اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھا رہے ہوتے ہو۔اور کوئی بھی پسند نہیں کرتا کہ وہ مردہ بھائی کا گوشت کھائے۔اب جہاں چار لوگ بیٹھے ہوں فوراً کسی پانچویں کے خلاف باتیں شروع ہو جاتی ہیں۔بہت ساری مجالس میں دیکھا گیا ہے۔پھر لوگوں کا ہنسی ٹھٹھا اڑانا ہے۔مختلف نام رکھ کر پیچھے سے ان کا مذاق اڑایا جاتا ہے۔حسد ہے۔اب حسد کی آگ بھی ایسی آگ ہے جس میں حسد کرنے والا خود جل رہا ہوتا ہے۔اپنا نقصان اٹھا رہا ہوتا ہے۔دوسرے کو کوئی نقصان شاید اتنا نہ پہنچے۔اپنے آپ کو زیادہ نقصان پہنچ رہا ہوتا ہے۔غرض اس طرح کے بے شمار احکام قرآن کریم نے ہمیں دیئے ہیں۔اس لئے میں نے گزشتہ خطبوں میں اس پر خاص طور پر توجہ دلائی ہے۔یہ بھی کہ قرآن پڑھنے اور سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی بھی کوشش کریں۔جب سمجھیں گی اور عمل کرنے کی کوشش کریں گی تو پھر آپ دوسروں سے مزید ممتاز