اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ اوّل) — Page 191
الازهار لذوات الخمار جلد سوم حصہ اوّل 191 سالانہ اجتماع لجنہ برطانیہ 2004 سے خطاب اللہ اور اس کے رسول کی باتیں سننے کے لئے حاضر ہوئی ہیں تا کہ اپنی تربیت کی طرف بھی توجہ دے سکیں ، اپنی روحانی ترقی کی طرف بھی توجہ دے سکیں اور پھر ان علمی اور روحانی باتوں کو اپنے عمل کے ساتھ ساتھ اپنے بچوں میں بھی رائج کرسکیں ، ان کو بھی یہ تعلیم دے سکیں۔پس جیسا کہ میں نے کہا آج اگر دنیا کے رائج نظام سے ہٹ کر اللہ اور اس کے رسول کی خاطر اکٹھی ہو کر نیکیوں میں آگے بڑھنے کی سکیمیں سوچنے والی عورتیں ہیں تو صرف احمدی عورتیں ہیں اور ہونی چاہئیں۔اگر کوئی اپنے آپ کو احمدی کہتی ہے اور اس میں یہ بات نہیں ہے تو اس کو اپنے بارہ میں سوچنا چاہئے۔کیونکہ اللہ تعالیٰ کا حکم ہے کہ نصیحت کی بات کو دہراتے رہنا چاہئے اس لئے میں چند باتیں جن کا اللہ تعالیٰ نے ہمیں حکم دیا ہے اور جو عورت کی فطرت میں ہیں اور باوجود اس کے کہ آپ میں اکثریت نیکیوں پر قائم ہے اور بری باتوں سے بچنے والی ہے اور ایمان ، یقین اور فراست اللہ تعالیٰ کے فضل سے آپ میں سے بہتوں میں پائی جاتی ہے۔لیکن شیطان اپنے کام کے مطابق اپنی فطرت کے مطابق موقع کی تلاش میں رہتا ہے۔اور موقع پا کر جب بھی حملہ کر سکے شیطان حملہ کرتا ہے۔اس لئے مومن کو نیک باتوں کی جگالی کرتے رہنا چاہئے ، ان کو دہراتے رہنا چاہئے۔جیسا کہ میں نے کہا اس وجہ سے چند باتیں آپ کے سامنے رکھوں گا جو کہ بطور یاددہانی کے ہیں تا کہ یاد دہانی ہو جائے اور شیطان سے بچنے کی طرف توجہ پیدا ہوتی رہے۔پیروں فقیروں کے پاس جاکر تعویذ گنڈے لینے سے بچیں اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں بیعت لیتے وقت ایمان لانے والی عورتوں کو جن باتوں کی طرف توجہ دلائی ہے، اس میں سے ایک یہ بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ کا شریک نہیں ٹھہرا ئیں گی۔فرمایا: لا يُشْرِكْنَ بِاللَّهِ شَيْئًا بعض عورتیں بعض دفعہ اپنی کمزور طبیعت کی وجہ سے یا پوری طرح نہ سمجھنے کی وجہ سے یا وہمی طبیعت کی وجہ سے کیونکہ عورتوں میں وہم بھی بڑا پایا جاتا ہے، شرک کے بہت قریب ہو جاتی ہیں۔غیروں میں دیکھیں تو یہ مثالیں بہت زیادہ نظر آتی ہیں۔مزاروں پر چڑھاوے چڑھائے جار ہے ہوتے ہیں اور اُن میں سے ایک بہت بڑی تعدا د عورتوں کی ہوتی ہے۔پھر گھروں میں تعویذ کرنے والی عورتوں کا آنا جانا ہوتا ہے۔آپ جس معاشرے سے آئی ہیں وہاں آپ کو اکثر ایسی مثالیں نظر