اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ اوّل) — Page 190
الازهار لذوات الخمار جلد سوم حصہ اوّل 190 سالانہ اجتماع لجنہ بر طانیہ 2004 سے خطاب ہے اور اُس معاشرہ کی بھی فکر کرنی ہے، اُس معاشرے کے لئے بھی درد پیدا کرنا ہے جو اللہ تعالیٰ کی بندگی اختیار کرنے سے دور ہٹتا جارہا ہے۔بالکل آزادی کی طرف دوڑ رہا ہے اس معاشرہ کی دنیاوی ضروریات کو بھی پورا کرنا ہے، مادی ضروریات کا بھی خیال رکھنا ہے، اس معاشرے کے ہر فرد کی روحانی ترقی کی طرف بھی اور اپنی روحانی ترقی کی طرف بھی توجہ دینی ہے۔اس معاشرے کو بھی اپنے پیدا کرنے والے خدا کی پہچان کروانی ہے۔احمدی خواتین کی ذمہ داریاں ان فکروں سے جن کی میں مثالیں اوپر دے آیا ہوں دنیا دار عورت کا دور کا بھی واسطہ نہیں ہوتا۔یہ فکر اگر آج ہے اور ہونی چاہئے تو ایک احمدی عورت کو ہے۔اس فکر کو سینے میں رکھتے ہوئے آج اگر کوئی اپنے مذہب قوم اور وطن کی خاطر قربانی کا عہد کرنے والی ہے تو وہ احمدی عورت ہے۔اور یہ حض اللہ تعالیٰ کا فضل ہے کہ اس نے احمدی عورت کو یہ توفیق عطا فرمائی۔آج اگر سچائی پر ہمیشہ قائم رہنے کا عہد کرنے والی کوئی عورت اور کوئی بچی ہے تو وہ احمدی عورت اور احمدی بچی ہے۔آج اگر کوئی اللہ تعالیٰ کی رضا کی خاطر ، اس کے دین کی خاطر ، اپنی قوم کی خاطر اپنا جان، مال، وقت قربان کرنے کا عہد کرتی ہے تو وہ احمدی عورت ہے۔آج اگر تمام دنیا کی عورتوں کو اپنے خدا کو حاضر و ناظر جان کر یہ دعوت مقابلہ دے رہی ہے اور یہ چیلنج دے رہی ہے کہ تم نے اگر نیکیوں پر عمل کرنا اور ان نیکیوں کو پھیلانا ہے تو اس کام میں اے دنیا والو! تم اس احمدی عورت کے نزدیک بھی نہیں پہنچ سکتے کیونکہ آج ان نیکیوں کو خدا کی رضا حاصل کرنے کے لئے اگر کوئی پھیلانے کا دعویٰ کر سکتا ہے تو وہ احمدی عورت ہے۔تو دیکھیں یہ کتنے بڑے عہد ہیں اور یہ کتنے بڑے دعوے ہیں جو آپ خدا اور رسول سے کرنے کا دعوی کرتے ہوئے دنیا کو چیلنج دے رہے ہیں۔اور یہ عہد، یہ وعدہ اور یہ دعوئی آپ اپنے ہر اجلاس اور ہر اجتماع میں کرتی ہیں اور آج بھی اس وقت بھی آپ نے یہ عہد دہرایا ہے۔کچھ کمز ور شاید اس عہد کو پوری طرح نہ سمجھ سکتی ہوں اور دوسروں کی دیکھا دیکھی عہد دہرا دیتی ہوں لیکن ان میں بھی پاک فطرت ہے۔ان کے اندر بھی اللہ تعالیٰ نے اس فطرت کو چمکانے کی صلاحیت رکھی ہوئی ہے۔تبھی تو ان میں سے بہت ساری تکلیف اٹھا کر ، خرچ کر کے، اپنے بچوں کو تکلیف میں ڈال کر، دور دراز شہروں سے