اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ اوّل) — Page 189
الازهار لذوات الخمار جلد سوم حصہ اوّل 189 سالانہ اجتماع لجنہ بر طانیہ 2004 سے خطاب ہیں۔پھر راز حاصل کرنے کے لئے مردوں نے مردوں کی اس کمزوری سے فائدہ اٹھانے کے لئے حکومتی سطح پر ایجنسیوں میں عورتوں کو رکھا ہوتا ہے، عورتیں بھرتی کی جاتی ہیں تا کہ وہ مردوں کو ، دنیا دار مردوں کو ، جن کا دین سے دور کا بھی واسطہ نہیں ہوتا، اللہ کا خوف ان کے پاس سے بھی نہیں گزرا ہوتا ، اپنے جال میں پھنسا کر دوستی کر کے اہم اور ملکی راز نکلوائیں، راز حاصل کریں۔اور ایسی عورتیں بھی دنیا کے لالچ میں ، ایسے کاموں میں بڑی بے حیائی سے ملوث ہو رہی ہوتی ہیں۔غرض عورت اور مرد کے دنیا کے پیچھے دوڑنے اور اللہ تعالیٰ کا خوف دل میں نہ ہونے کی وجہ سے دنیا میں ایک فساد برپا ہے۔اگر کوئی نیکی کی طرف مائل ہے اور بہت بڑی تعداد دنیا میں ایسی ہے جو سوائے چھوٹی موٹی ناجائز باتوں کے بڑی غلطیاں کرنے والی نہیں ہے۔ان میں ایسی بھی ہیں جو نیکی کے کاموں میں ،خدمت خلق کے کاموں کے لئے کوشش میں آگے بڑھی ہوئی ہیں ان کے لئے کوشش بھی کرتی ہیں، بڑی تکلیف اٹھا کر بعض دفعہ چندے بھی اکٹھے کرتی ہیں۔لیکن إِلَّا مَا شَاءَ اللہ سوائے چند ایک کے یہ سب کام ایک وقتی جذ بہ کے تحت ہورہا ہوتا ہے۔ایک وقتی رحم کا جذبہ اس وقت ابھرتا ہے اور ایسے کام کرنے والی پھر دنیا داری میں کھو جاتی ہیں۔خدا کی رضا حاصل کرنے کا جو نہم ایک مومن میں ہونا چاہئے وہ اُن میں نہیں ہوتا۔ایک مقصد حیات، ایک زندگی کا مقصد ، ایک شطح نظر ، ایک ٹارگٹ (Target) انہوں نے نہیں بنایا ہوتا۔اللہ تعالیٰ کے اس حکم کے تحت وہ یہ سب کچھ نہیں کر رہی ہوتیں کہ نیکیوں میں آگے بڑھو۔فَاسْتَبِقُوا الْخَيْرَات کا ان کو کچھ پتہ نہیں ہوتا۔فَاسْتَبِقُوا الْخَيْرَاتِ یا نیکیوں میں آگے بڑھنا ان کا مقصد نہیں ہوتا۔اس لئے انسانی ہمدردی کے تحت کوئی نیکی کرتی بھی ہیں تو جیسا کہ میں نے کہا ایک وقتی جذ بہ کے تحت کر رہی ہوتی جذبہ ہیں۔ان کو اس سے کوئی غرض نہیں ہوتی کہ اب ان نیکیوں میں انہوں نے آگے بڑھنا ہے۔اور اپنی دوسری بہنوں کو بھی اپنے ساتھ ان نیکیوں میں آگے لے کر نکلنا ہے، اُن میں بھی یہ جذ بہ ابھارنا ہے کہ نیکیوں میں آگے بڑھو۔اور بندوں کے حقوق اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے لئے ادا کرنے ہیں۔اور اللہ تعالیٰ کے حقوق اپنی عاقبت سنوارنے کے لئے ، عبد رحمن بننے کے لئے یارحمن کی بندیاں بننے کے لئے ادا کرنے ہیں، اللہ تعالیٰ کی عبادت گزار بندی بننا ہے۔دینی علوم سے بھی واقفیت حاصل کرنی ہے، روحانی اور اخلاقی اقدار کو بھی حاصل کرنا ہے۔اپنی نسلوں کے مستقبل اور آخرت کی بھی فکر کرنی