اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ اوّل) — Page 185
الازهار لذوات الخمار جلد سوم حصہ اوّل 185 جلسہ سالانہ سوئٹزرلینڈ 2004ء لجنہ سے خطاب والی ہوں۔بچیوں کو بھی جو جوانی کی عمر کو پہنچ رہی ہیں یا پہنچ چکی ہیں میں یہی کہتا ہوں کہ تمہاری عزت اور تمہاری انفرادیت اور تمہارا وقار اور تمہارا احترام اسی میں ہے کہ اللہ اور اس کے رسول کے احکامات پر عمل کرو۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ : پھر فرمایا بات یہ ہے کہ جب انسان جذبات نفس سے پاک ہوتا اور نفسانیت کو چھوڑ کر خدا کے ارادوں کے اندر چلتا ہے اس کا کوئی فعل نا جائز نہیں ہوتا بلکہ ہر ایک فعل خدا کی منشاء کے مطابق ہوتا ہے۔جہاں لوگ ابتلا میں پڑتے ہیں وہاں یہ امر ہمیشہ ہوتا ہے کہ وہ فعل خدا کے ارادہ کے مطابق نہیں ہوتا۔خدا کی رضا اس کے برخلاف ہوتی ہے۔ایسا شخص اپنے جذبات کے نیچے چلتا ہے مثلاً غصے میں آکر کوئی ایسا فعل اس سے سرزد ہو جاتا ہے جس سے مقدمات بن جایا کرتے ہیں، فوجداریاں ہو جاتی ہیں۔مگر اگر کسی کا ارادہ ہو تو بلا استصواب کتاب اللہ اس کا حرکت وسکون نہ ہوگا“۔( یعنی اللہ تعالیٰ کی کتاب قرآن کریم کو دیکھے بغیر اس کے احکامات کو دیکھے بغیر اس کا کوئی عمل نہیں ہوگا کوئی اس کی حرکت نہیں ہوگی جو اس کے بغیر ہو۔اس کے مطابق نہ ہو یعنی کوشش یہ ہوگی کہ میں اللہ اور اس کے رسول کے احکامات پر عمل کروں۔) اور اپنی ہر ایک بات پر کتاب اللہ کی طرف رجوع کرے گا۔تو یقینی امر ہے کہ کتاب اللہ مشورہ دے گی جیسے فرمایا وَلَا رَطْبٍ وَّلَا يَابِسٍ إِلَّا فِي كِتَبٍ مُّبِيْن (الانعام:60) سواگر ہم یہ ارادہ کریں کہ ہم مشورہ کتاب اللہ سے لیں گے تو ہم کو ضرور مشورہ ملے گا لیکن جو اپنے جذبات کا تابع ہے وہ ضرور نقصان ہی میں پڑے گا۔بسا اوقات وہ اس جگہ مؤاخذہ میں پڑے گا سو اس کے مقابل اللہ نے فرمایا کہ ولی جو میرے ساتھ بولتے چلتے کام کرتے ہیں وہ گویا اس میں محو ہیں۔سو جس قدر