اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ اوّل)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 14 of 377

اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ اوّل) — Page 14

الازهار لذوات الخمار جلد سوم حصہ اوّل 14 جلسہ سالانہ برطانیہ 2003 مستورات سے خطاب رہیں۔ان کے سامنے ہر گز کوئی ایسی بات چیت نہ کریں جس سے کسی بدخلق کے پیدا ہونے کا اندیشہ ہو۔بچہ اگر نادانی سے کوئی بات خلاف مذہب اسلام کہتا ہے یا کرتا ہے، اسے فوراً روکا جائے۔اور ہر وقت اس بات کی کوشش کریں کہ اللہ تعالیٰ کی محبت ان کے قلب میں جاگزیں ہو۔اپنے بچوں کو کبھی آوارہ نہ پھرنے دو۔ان کو آزاد نہ ہونے دو کہ حدود اللہ کو توڑنے لگیں۔ان کے کاموں کو انضباط کے اندر رکھو اور ہر وقت نگرانی رکھو۔اپنے ننھے بچوں کو اپنی نوکرانیوں کے سپر دکر کے بالکل بے پروا نہ ہو جاؤ“۔اب بعض دفعہ بعض ملکوں میں گھروں میں مسلمان کام کرنے والے نہیں ہوتے ، ان کے سپرد کر دیتے ہیں لڑکیوں کو جو بگاڑ پیدا کر رہے ہوتے ہیں، یا ایسے ملازمین ہوتے ہیں جن کو دین کا کوئی علم ہی نہیں ہوتا۔تو فرمایا کہ ملازموں کے سپر د کر کے بالکل بے پرواہ نہ ہو جاؤ۔کہ بہت سی خرابیاں صرف اسی ابتدائی غفلت سے پیدا ہوتی ہیں۔ماں اپنے بچے کو باہر بھیج کر خوش ہوتی ہے کہ مجھے کچھ فرصت مل گئی ہے لیکن اسے کیا معلوم ہے کہ میرا بچہ کن کن صحبتوں میں گیا اور مختلف نظاروں سے اس نے اپنے اندر کیا کیا بُرے نقش لئے جو اس کی آئندہ زندگی کے لئے نہایت ضرررساں ہو سکتے ہیں۔پس احتیاط کرو کہ اس وقت کی تھوڑی سی احتیاط بہت سے آنے والے خطروں سے بچانے والی ہے۔خود نیک بنو اور خدا پرست بنو کہ تمہارے بچے بھی بڑے ہوکر نیک اور خدا پرست ہوں۔“ ( الازهار لذوات الخمار صفحه 2) پھر بچوں کی تربیت کا ایک اہم پہلو جیسا کہ کہا گیا ہے ان کے ماحول پر نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔اس بارہ میں پہلے بھی کہ چکا ہوں کہ بچوں کو گھر میں ایسا ماحول دیں کہ وہ زیادہ تر ماں باپ کی صحبت میں وقت گزاریں۔لیکن بہر حال بچوں نے سکول بھی جانا ہے، کھیلنا بھی ہے، دوستوں میں بھی اٹھنا بیٹھنا ہے۔تو دوست اور ماحول بھی بچے کے کردار پر بہت زیادہ اثر انداز ہورہے ہوتے ہیں۔اب یہ واقعہ عموماً بیان کیا جاتا ہے۔اکثر ہمارے لٹریچر میں ہے، آپ نے بھی سنا ہوگا کہ ایک کالج کے لڑکے