اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ اوّل) — Page 13
الازهار لذوات الخمار جلد سوم حصہ اوّل 13 جلسہ سالانہ برطانیہ 2003 مستورات سے خطاب یہ کہ تعلیمی طریق میں اس امر کالحاظ اور خاص توجہ چاہئے کہ دینی تعلیم ابتدا سے ہی ہو۔اور میری ابتدا سے یہی خواہش رہی ہے اور اب بھی ہے۔اللہ تعالیٰ اس کو پورا کرے۔دیکھو تمہاری ہمسایہ قوموں یعنی آریوں نے کس قدر حیثیت تعلیم کے لئے بنائی۔کئی لاکھ سے زیادہ روپیہ جمع کر لیا۔کالج کی عالیشان عمارت اور سامان بھی پیدا کیا۔اگر مسلمان پورے طور پر اپنے بچوں کی تعلیم کی طرف توجہ نہ کریں گے تو میری بات سن رکھیں کہ ایک وقت ان کے ہاتھ سے بچے بھی جاتے رہیں گے“۔بچوں کو نیک ماحول دیں:۔( ملفوظات جلد اول، جدید ایڈیشن، صفحہ 44-45) تو جیسے کہ پہلے بھی میں کہہ چکا ہوں کہ بچوں کا علاوہ دنیاوی تعلیم کے مسجد کے ساتھ ، نظام کے ساتھ بھی تعلق پیدا کریں تا کہ ان کو اچھا ماحول میسر ہو۔ایسا ماحول جو خدا اور خدا کے رسول علی کی محبت دلوں میں پیدا کرنے والا ماحول ہو۔اعلیٰ اخلاق مہیا کرنے والا ماحول ہو۔اب آپ یہ تو تجربہ کر چکے ہیں جو یہاں انگلستان میں رہنے والے ہیں کہ حضرت خلیفہ امسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ کی ہجرت کے بعد جو بچے مسجد میں آنا شروع ہوئے ، نظام سے، حضور کی صحبت سے فائدہ اٹھایا، ان کی کایا پلٹ گئی۔اور دینی اور دنیوی دونوں لحاظ سے وہ کامیاب ہوئے۔اور تمام والدین کو اس کا تجربہ ہے اور برملا اس کا اظہار کرتے ہیں۔تو جو بچے باہر کے ماحول میں جائیں، آپ کے علم میں ہو کہ کہاں گئے ہیں۔کھیل کی گراؤنڈ میں گئے ہیں تو اس کے بعد سید ھے گھر واپس آئیں۔سکول گئے ہیں تو مغرب کے ماحول کا ان پر اثر تو نہیں ہو رہا۔اب تو خیر مشرق کا بھی یہی حال ہے مغرب والا۔بہر حال جوں جوں یہ نام نہاد نئی روشنی آرہی ہے ماں باپ کے لئے زیادہ لمحہ فکریہ ہے۔بہت دعاؤں کی ضرورت ہے۔حضرت مصلح موعود احمدی ماؤں کو نصیحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں: میں احمدی ماؤں کو خصوصیت سے اس امر کی طرف توجہ دلاتا ہوں کہ وہ اپنے ننھے ننھے بچوں میں خدا پرستی کا جذبہ پیدا کرنے کے لئے ہر وقت کوشاں