اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ اوّل)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 167 of 377

اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ اوّل) — Page 167

الازهار لذوات الخمار جلد سوم حصہ اوّل 167 جلسہ سالانہ جرمنی 2004 مستورات سے خطاب فرمایا: اور دعا کرے پھر اللہ تعالیٰ بچاوے تو بیچ سکتا ہے۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ مجھ سے دعا کرو میں مانوں گا۔اُدْعُوْنِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ (المؤمن: 61) دو چیزیں ہیں ایک تو دعا کرنی چاہئے۔دوسرا طریق یہ ہے كُونُوا مَعَ الصَّدِقِین راستبازوں کی صحبت میں رہوتا کہ ان کی صحبت میں رہ کر تم کو پتہ لگ جا وے کہ تمہارا خدا قادر ہے، بینا ہے۔(یعنی دیکھنے والا ہے ) سننے والا ہے۔دعائیں قبول کرتا ہے اور اپنی رحمت سے بندوں کو صد ہا نعمتیں دیتا ہے۔جولوگ ہر روز نئے گناہ کرتے ہیں وہ گناہ کو حلوے کی طرح شیریں خیال کرتے ہیں۔یعنی جن لوگوں کو گناہ کی عادت پڑ جاتی ہے ہر روز ایک نیا گناہ کرتے ہیں اور پھر اس کو کچھ سمجھتے بھی نہیں بلکہ جس طرح کوئی حلوہ کھا جاتا ہے میٹھا سمجھ کے، اس طرح کھا جاتے ہیں۔ان کو خر نہیں کہ یہ زہر ہے کیونکہ کوئی شخص سنکھیا جان کر نہیں کھا سکتا۔(سنکھیا ایک زہر ہے۔کوئی شخص بجلی کے نیچے نہیں کھڑا ہوتا اور کوئی شخص سانپ کے سوراخ میں ہاتھ نہیں ڈالتا۔اور کوئی شخص کھا نا شکی نہیں کھا سکتا۔اگر چہ اس کو کوئی دو چار روپے بھی دے۔پھر باوجود اس بات کے جو یہ گناہ کرتا ہے کیا اس کو خبر نہیں ہے۔پھر کیوں کرتا ہے۔اس کی وجہ یہی ہے کہ اس کا دل مضر یقین نہیں کرتا“۔اس کے دل میں یہ یقین نہیں ہے کہ یہ نقصان دہ ہے۔” اس واسطے ضرور ہے کہ آدمی پہلے یقین حاصل کرے۔جب تک یقین نہیں، غور نہیں کرے گا اور کچھ نہ پائے گا۔بہت سے لوگ ایسے بھی ہیں جنہوں نے پیغمبروں کا زمانہ بھی دیکھ کر ان کو ایمان نہ آیا۔اس کی وجہ یہی تھی کہ انہوں نے غور نہیں کی۔دیکھو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:۔وَمَا كُنَّا مُعَذِّبِينَ حَتَّى نَبْعَثَ رَسُوْلًا ) (بنی اسرائیل: 16) ہم عذاب نہیں دیا کرتے جب تک کوئی رسول نہ بھیج دیویں۔