اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ اوّل) — Page 168
الازهار لذوات الخمار جلد سوم حصہ اوّل 168 جلسہ سالانہ جرمنی 2004 مستورات سے خطاب وَإِذَا أَرَدْنَا أَنْ تُهْلِكَ قَرْيَةً أَمَرْنَا مُتْرَفِيْهَا فَفَسَقُوْا فِيْهَا فَحَقَّ عَلَيْهَا الْقَوْلُ فَدَمَّرْنَهَا تَدْمِيرًا (بنی اسرائیل: 17) پہلے امراء کو اللہ تعالیٰ مہلت دیتا ہے۔وہ ایسے افعال کرتے ہیں کہ آخر ان کی پاداش میں ہلاک ہو جاتے ہیں۔غرضیکہ ان باتوں کو یا درکھو اور اولاد کی تربیت کرو۔زنا نہ کرو۔کسی شخص کا خون نہ کرو۔اللہ تعالیٰ نے ساری عبادتیں ایسی رکھی ہیں جو بہت عمدہ زندگی تک پہنچاتی ہیں۔عہد کرو اور عہد کو پورا کرو۔اگر تکبر کرو گی تو تم کوخدا ذلیل کرے گا۔یہ ساری باتیں بری ہیں۔“ وو 66 ( ملفوظات جلد سوم صفحہ 374-375 جدید ایڈیشن) تکبر سے بھی بچنا چاہئے۔بہت بُری عادت ہے۔پھر فرمایا کہ: بیعت کی خالص اغراض کے ساتھ جو خدا ترسی اور تقویٰ پر مبنی ہیں دنیا کے اغراض کو ہرگز نہ ملاؤ۔نمازوں کی پابندی کرو اور توبہ واستغفار میں مصروف رہو۔نوع انسان کے حقوق کی حفاظت کرو اور کسی کو دیکھ نہ دو۔راستبازی اور پاکیزگی میں ترقی کرو تو اللہ تعالیٰ ہر قسم کا فضل کر دے گا“۔مردوں کو یہ فرمایا کہ: عورتوں کو بھی اپنے گھروں میں نصیحت کرو کہ وہ نماز کی پابندی کریں اور ان کو گلہ شکوہ اور غیبت سے روکو۔پاکبازی اور راستبازی ان کو سکھاؤ۔ہماری طرف سے صرف سمجھانا شرط ہے اس پر عمل درآمد کرنا تمہارا کام ہے۔پھر فرمایا: پانچ وقت اپنی نمازوں میں دعا کرو۔اپنی زبان میں بھی دعا کرنی منع نہیں ہے۔نماز کا مزا نہیں آتا ہے جب تک حضور نہ ہو اور حضور قلب نہیں ہوتا ہے جب تک عاجزی نہ ہو۔عاجزی جب پیدا ہوتی ہے جو یہ سمجھ آ جائے کہ کیا پڑھتا ہے۔اس لئے اپنی زبان میں اپنے مطالب پیش کرنے کے لئے جوش اور اضطراب پیدا ہوسکتا ہے۔مگر اس سے یہ ہرگز نہیں سمجھنا چاہئے کہ نماز کو اپنی