اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ اوّل)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 163 of 377

اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ اوّل) — Page 163

الازھار لذوات الخمار جلد سوم حصّہ اوّل 163 جلسہ سالانہ جرمنی 2004 مستورات سے خطاب نہیں سمجھتیں۔یہ گویا تہذیب ہے۔انہی بدنتائج کو روکنے کیلئے شارع الاسلام نے وہ باتیں کرنے کی اجازت ہی نہ دی جو کسی کی ٹھوکر کا باعث ہوں۔ایسے موقعہ پر یہ کہہ دیا کہ جہاں اس طرح غیر محرم مرد و عورت ہر دو جمع ہوں تیسرا ان میں شیطان ہوتا ہے۔ان ناپاک نتائج پر غور کرو جو یورپ اس خلیج الرسن تعلیم سے بھگت رہا ہے۔“ ( یعنی کہ بالکل آزادی کی جو رسم ہے۔) '' بعض جگہ بالکل قابل شرم طوائفا نہ زندگی بسر کی جا رہی ہے۔یہ انہیں تعلیمات کا نتیجہ ہے۔اگر کسی چیز کو خیانت سے بچانا چاہتے ہو تو حفاظت کرو۔لیکن اگر حفاظت نہ کرو اور یہ سمجھ رکھو کہ بھلے مانس لوگ ہیں تو یاد رکھو کہ ضرور وہ چیز تباہ ہوگی۔اسلامی تعلیم کیسی پاکیزہ تعلیم ہے کہ جس نے مرد وعورت کو الگ رکھ کر ٹھوکر سے بچایا اور انسان کی زندگی حرام اور تلخ نہیں کی جس کے باعث یورپ نے آئے دن کی خانہ جنگیاں اور خود کشیاں دیکھیں۔بعض شریف عورتوں کا طوائفانہ زندگی بسر کرنا ایک عملی نتیجہ اس اجازت کا ہے جو غیر عورت کو دیکھنے کے لئے دی گئی ( ملفوظات جلد اوّل، جدید ایڈیشن، صفحہ 21-22) تو یہ جو فروج کی حفاظت کا حکم ہے اس کے لئے بھی پردہ انتہائی ضروری ہے اس لئے اس خدائی حکم کو بھی کوئی معمولی حکم نہ سمجھیں۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ایک جگہ فرمایا ہے کہ پردے کے خلاف جولوگ بولتے ہیں وہ پہلے مردوں کی اصلاح تو کرلیں پھر اس بات کو چھیڑ ہیں کہ آیا پردہ ضروری ہے یا نہیں۔پھر فرمایا کہ اپنی امانتوں اور عہدوں کا پاس کرنے والے اصل فلاح پانے والے اور اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرنے والے ہیں۔اب میاں بیوی کے نکاح کا عہد بھی ایک عہد ہے کہ ایک دوسرے کے وفادار رہیں گے۔ایک عہد ہے کہ ایک دوسرے کے رازوں کو راز رکھیں گے۔اس بارے میں پہلے بھی میں کہہ آیا ہوں۔پھر اپنے معاشرے میں اپنے روزمرہ معمولات میں انسان بہت سے وعدے کرتا ہے ان کو پورا کرنا بھی ضروری ہے۔پھر امانتوں کا پاس کرنا ہے۔اب صرف کسی کی رقم یا کسی کی چیز کی امانت ہی امانت نہیں