اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ اوّل)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 164 of 377

اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ اوّل) — Page 164

الازھار لذوات الخمار جلد سوم حصّہ اوّل 164 جلسہ سالانہ جرمنی 2004 مستورات سے خطاب ہے بلکہ اگر کسی کا راز پتہ چلے تو یہ بھی امانت ہے۔کسی کا راز آپ کے علم میں آتا ہے تو وہ راز آپ کے پاس امانت ہے۔اگر آپ کی وجہ سے وہ کہیں باہر نکلتا ہے تو اس میں خیانت کر رہی ہیں۔اگر کسی مجلس میں گئی ہیں اور وہاں کسی کی کوئی بات سن لیں تو یہ بھی امانت ہے۔اگر کسی سہیلی نے ، دوست نے ، آپ سے کوئی مشورہ مانگ لیا تو یہ بھی امانت ہے۔تو جو بات اس نے کہی ہے وہ آگے کسی اور تک نہ پہنچے۔اور دیانت کا تقاضا یہ ہے کہ دوسرے کو یہ باتیں پتہ نہ لگیں ورنہ خدا تعالیٰ کی نظر میں آپ خائن کہلائیں گی ، خیانت کرنے والی کہلا ئیں گی۔تو دیکھیں کس باریکی سے ہمیں امانتوں کا حق ادا کرنے کی طرف توجہ دلائی گئی ہے۔سب اعلیٰ کام تقویٰ سے ہوتے ہیں پھر فرمایا ہے کہ یہ سب کام تقویٰ کے کام ہیں ، اللہ تعالیٰ کی خشیت پیدا کرنے والے کام ہیں۔اس کا پیار حاصل کرنے والے کام ہیں اور اس کی جنتوں کو حاصل کرنے والے کام ہیں۔لیکن یہ کام، یہ سب کام سجا کر خوبصورت طریقے سے پیش کرنے کے تب قابل ہوں گے جب ہم اپنی نمازوں کی بھی حفاظت کرنے والے ہوں گے۔اللہ تعالیٰ نے انسان کی پیدائش کی غرض و غائت یا مقصد عبادت بتایا ہے اور فرمایا ہے کہ میں نے اس لئے جنوں اور انسانوں کو پیدا کیا کہ وہ میری عبادت کریں۔اور عبادت کا بہترین ذریعہ ہمیں یہ بتا دیا کہ نمازوں کی حفاظت کرو، نمازیں وقت پر ادا کرو۔اور جو پہلے قدم پر خشوع و خضوع حاصل کرنے کی کوشش کی تھی اب اس پر قائم ہو جاؤ اور اس خشوع وخضوع اور ذوق عبادت کو قائم رکھو اور آپ کی چونکہ مزید ذمہ داری بھی ہے آپ کے سپر د ایک امانت بھی کی گئی ہے جس کی ادائیگی آپ نے کرنی ہے اس لئے ان نمازوں کی حفاظت نہ صرف خود کرنی ہے بلکہ اپنی اولا دوں کو بھی اس کی عادت ڈالنی ہے۔تبھی آپ اولاد کی تربیت کی جو امانت آپ کے سپرد کی گئی ہے اس کا صحیح حق ادا کرنے والی ہوں گی۔ان میں بھی یہ احساس پیدا کرنا ہے کہ وہ بھی نمازوں کی حفاظت کریں۔جب یہ معیار آپ حاصل کر لیں گی تو پھر بے فکر ہو جائیں۔نہ صرف آپ بلکہ آپ کی اولا دیں بھی فلاح پاتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی جنتوں کی وارث بنیں گی۔اور یہ سلسلہ اگر یونہی چلتا رہا ایک کڑی سے دوسری کڑی ملتی گئی تو ہمیشہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعت میں عبادالرحمن پیدا ہوتے