اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ اوّل) — Page 160
الازھار لذوات الخمار جلد سوم حصّہ اوّل 160 جلسہ سالانہ جرمنی 2004 مستورات سے خطاب وقت کے پاس اور وہ معمولی رقم جو ان غریب عورتوں کے لئے یقیناً ایک بڑی رقم تھی خلیفہ وقت کے ہاتھ پر رکھ دیتی رہیں۔اور یہ مثالیں اللہ تعالیٰ کے فضل سے جیسا کہ میں نے پہلے کہا آج بھی ملتی ہیں۔ہر کوئی اپنی توفیق کے مطابق آج بھی مالی قربانیوں میں حصہ لیتی ہے۔آج بھی اپنے زیورا تار تار کر جماعتی مقاصد کے لئے عورتیں پیش کرتی ہیں۔بعض تو اپنے تمام زیور ہی کسی تحریک یا کسی مد میں جمع کروادیتی ہیں یا دے دیتی ہیں۔اور پھر ساتھ ہی یہ اظہار بھی ہوتا ہے کہ ہم مالی قربانیوں میں پوری طرح حصہ نہیں لے سکتے۔تو یہ مقام آج ایک احمدی عورت کا ہی مقام ہے اور اس کو آپ نے قائم بھی رکھنا ہے انشاء اللہ تعالی۔اس کو اپنی انگلی نسلوں میں بھی پیدا کرنا اور چلانا ہے۔تو اس طرح کی مثالیں قائم کر کے یہ عورتیں پہلوں کی وہ مثالیں قائم کرتی ہیں جہاں ہمیں یہ نظارے نظر آتے ہیں۔جیسا کہ ایک روایت میں آتا ہے کہ عبد الرحمن بن عابس روایت کرتے ہیں کہ میں نے ابن عباس رضی اللہ عنھا سے یہ سنا ہے کہ ان سے ایک شخص نے دریافت کیا کہ آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کوئی عید الاضحی یا عیدالفطر پڑھی ہے؟ انہوں نے کہا ہاں اور اگر میرا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بچپن میں ہی تعلق نہ ہوتا تو میں اس عہد کا مشاہدہ نہ کر پاتا۔پھر حضرت ابن عباس نے بیان کیا کہ رسول اللہ ہے صل الله عید کے لئے تشریف لے گئے۔خطبہ عید دیا۔انہوں نے اذان اور اقامت کا ذکر نہیں کیا۔یہ مسئلہ بھی یہاں حل ہو گیا کہ عید پر اذان اور اقامت وغیرہ کوئی نہیں ہوتی۔پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عورتوں کے پاس تشریف لے گئے ان کو وعظ ونصیحت کی اور ان کو صدقہ دینے کی تلقین فرمائی۔کہتے ہیں کہ میں نے عورتوں کو دیکھا کہ وہ اپنے کانوں اور اپنی گردنوں کی طرف لپکیں یعنی ان کے ہاتھ اپنے کانوں اور اپنی گردنوں کے ہاروں کی طرف گئے اور اپنے زیورات اتار اتار کر حضرت بلال کو دینے لگیں۔پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت بلال اٹھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر تشریف لے گئے۔“ 66 (بخارى كتاب النكاح باب والذين لم يبلغوا الحلم منكم ) تو یہ تھے قربانیوں کے وہ اعلیٰ معیار جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی قوت قدسی کی وجہ سے ان لوگوں میں اور پھر اس زمانے میں قائم ہوئے اور ان لوگوں میں قائم ہوئے جن کو لوگ جاہل اجڈ اور