اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ اوّل)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 157 of 377

اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ اوّل) — Page 157

الازهار لذوات الخمار جلد سوم حصہ اوّل 157 جلسہ سالانہ جرمنی 2004 مستورات سے خطاب۔اچھے تعلقات ہیں، معاشرے کو پتہ ہے کہ اچھے تعلقات ہیں، تو معاشرے میں بھی عورت اور مرد کا ایک مقام بنا رہتا ہے۔کسی کو نہ عورت پر انگلی اٹھانے کی جرات ہوتی ہے اور نہ کسی کو مرد پر انگلی اٹھانے کی جرات ہوتی ہے۔تو یہاں خاوند اور بیوی کی ذمہ داری ہے کہ اپنی اپنی ذمہ داریوں کو سمجھیں۔نہ مرد، عورت کے اعتماد کو ٹھیس پہنچائے اور نہ عورت ، مرد کے اعتماد کو ٹھیس پہنچائے۔فرمایا کہ اس سے نہ صرف تم اپنی گھریلو زندگی خوشگوار بناؤ گے، اچھے تعلقات رکھ کر ، بلکہ اپنی نسلوں کو بھی محفوظ کر رہے ہو گے۔ان کو محفوظ کرنے کے بھی سامان کر رہے ہو گے۔تو اس طرح بہت سے حقوق اور فرائض اللہ تعالیٰ نے عورت اور مرد کے رکھے ہیں اور دونوں پر یہ ذمہ داری ڈالی گئی ہے کہ ان کی ادائیگی کریں۔عورت بھی معاشرے کا اسی طرح اہم حصہ ہے جس طرح مرد۔اور دونوں اگر صحیح ہوں گے تو اگلی نسل بھی صحیح طریق پر پروان چڑھے گی ، اس کی تربیت بھی صحیح ہوگی۔اس لئے اللہ تعالیٰ نے دونوں کو اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے کی طرف توجہ دلائی ہے۔اور اسی لئے نکاح کے خطبے میں جس میں سے ایک آیت کی میں نے تلاوت کی ہے، انہی ذمہ داریوں کی طرف توجہ دلاتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے دونوں کو تقویٰ پر قائم رہنے کی نصیحت فرمائی ہے۔ان میں آپس کے پیارا اور محبت کے تعلقات کے بارے میں بھی فرمایا ہے۔ایک دوسرے کے رحمی رشتوں کے بارے میں بھی فرمایا ہے۔پھر سچ پر قائم رہنے کے بارے میں بھی فرمایا ہے کیونکہ سچ پر قائم رہ کر ہی ایک دوسرے پر اعتماد قائم ہوتا ہے اور سچ پر قائم رہ کر ہی آپس کے تعلقات کو اچھی طرح ادا کر سکتے ہو اور سچ پر قائم ہو کر ہی اپنی نسلوں کی صحیح تربیت کر سکتے ہو اور ان کو معاشرے کا ایک مفید وجود بنا سکتے ہو۔عائلی زندگی میں بداعتمادی کی وجہ سے جھگڑے بہت سے جھگڑے خاوند بیوی کے اس لئے ہو رہے ہوتے ہیں کہ بے اعتمادی کا شکار ہوئے ہوتے ہیں۔عورت کو شکوہ ہوتا ہے کہ مرد سچ نہیں بولتا۔مرد کوشکوہ ہوتا ہے کہ عورت بیچ نہیں بولتی اور اس کو سچ بولنے کی عادت ہی نہیں۔اور اکثر معاملات میں یہ ایک دوسرے پر الزام لگا رہے ہوتے ہیں کہ میرے سے غلط بیانی سے کام لیا یا مستقل ہر بات میں غلط بیانی کرتے ہیں یا کرتی ہے۔پھر سچ پر قائم نہ رہنے کی وجہ سے بچوں پر بھی اثر پڑتا ہے اور بچے بھی جھوٹ بولنے کی عادت میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔