اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ اوّل)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 143 of 377

اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ اوّل) — Page 143

الازهار لذوات الخمار جلد سوم حصہ اوّل 143 جلسہ سالانہ بر طانیہ 2004 مستورات سے خطاب اسلام کے خلاف کیا جاتا ہے۔آپ لوگوں کو، خاص طور پر نو جوان نسل کو ، اس کے متعلق اسلام کا حسین موقف لوگوں کے سامنے پیش کرنا چاہئے اور خود بھی اس قسم کی پریشانیوں میں مبتلا ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔وو معترضین قرآن کریم کی اس آیت پر جو اعتراض کرتے ہیں کہ الرِّجَالُ قَوْمُوْنَ عَلَى النِّسَاءِ (النساء:35)۔یعنی مردوں کو عورتوں پر حاکم بنایا گیا ہے۔اور پھر یہ بِمَا فَضَّلَ الله (النساء:35)۔مرد کو ہر پہلو سے عورت پر فضیلت دی گئی ہے۔اس کی مفسرین نے مختلف تفسیر میں کی ہیں۔لیکن ایک بہت خوبصورت تفسیر جو حضرت خلیفتہ المسیح الرابع نے کی ہے وہ میں تھوڑی سی بیان کرتا ہوں۔فرمایا کہ: سب سے پہلے تو لفظ قوام کو دیکھتے ہیں۔قوام کہتے ہیں ایسی ذات کو جو اصلاح احوال کرنے والی ہو ، جو درست کرنے والی ہو، جو ٹیڑھے پن اور کبھی کو صاف سیدھا کرنے والی ہو۔چنانچہ قوام اصلاح معاشرہ کے لئے ذمہ دار شخص کو کہا جائے گا۔پس قوامون کا حقیقی معنی یہ ہے کہ عورتوں کی اصلاح معاشرہ کی اول ذمہ داری مرد پر ہوتی ہے۔اگر عورتوں کا معاشرہ بگڑ نا شروع ہو جائے ،ان میں کج روی پیدا ہو جائے ، ان میں ایسی آزادیوں کی روچل پڑے جو ان کے عائلی نظام کو تباہ کرنے والی ہو یعنی گھریلو نظام کو تباہ کرنے والی ہو، میاں بیوی کے تعلقات کو خراب کرنے والی ہو ، تو عورت پر دوش دینے سے پہلے مرد اپنے گریبان میں منہ ڈال کر دیکھیں۔کیونکہ خدا تعالیٰ نے ان کو نگران مقرر فرمایا تھا۔معلوم ہوتا ہے انہوں نے اپنی بعض ذمہ داریاں اس سلسلہ میں ادا نہیں کیں۔اور بِمَا فَضَّلَ اللَّهُ بَعْضَهُمْ عَلَى بَعْضٍ (النساء: 35) میں خدا تعالیٰ نے جو بیان فرمایا ہے وہ یہ ہے کہ خدا تعالیٰ نے ہر تخلیق میں کچھ خلقی فضیلتیں ایسی رکھی ہیں جو دوسری تخلیق میں نہیں ہیں اور بعض کو بعض پر فضیلت ہے۔قوام کے لحاظ سے مرد کی ایک فضیلت کا اس میں ذکر فرمایا گیا ہے۔ہرگز یہ مراد نہیں کہ مرد کو ہر پہلو سے عورت پر فضیلت حاصل ہے۔“ ( خطاب حضرت خلیفہ امسیح الرابع بر موقع جلسہ سالانہ انگلستان، تیم اگست 1987ء)