اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ اوّل)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 136 of 377

اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ اوّل) — Page 136

الازهار لذوات الخمار جلد سوم حصہ اوّل 136 جلسہ سالانہ بر طانیہ 2004 مستورات سے خطاب مرگئی ہے۔اس لئے ان کے واسطے اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا ہے کہ وَعَاشِرُوهُنَّ بِالْمَعْرُوْفِ (النساء: 20) ہاں اگر وہ بیجا کام کرے تو تنبیہ ضروری چیز ہے۔انسان کو چاہئے کہ عورتوں کے دل میں یہ بات جمادے کہ وہ کوئی ایسا کام جو دین کے خلاف ہو کبھی بھی پسند نہیں کر سکتا اور ساتھ ہی وہ ایسا جابر اور ستم شعار نہیں کہ اس کی کسی غلطی پر بھی چشم پوشی نہیں کر سکتا۔عورت کے ساتھ حسن سلوک کرنے کی تعلیم ایک جگہ آپ نے فرمایا ہے کہ : وو ( ملفوظات جلد اول صفحہ 403-404۔جدید ایڈیشن) یہ دل دُکھانا بڑے گناہ کی بات ہے اور لڑکیوں کے تعلقات بہت نازک ہوتے ہیں۔تو جہاں مردوں کو سختی کی اجازت ہے وہ تنبیہ کی اجازت ہے۔مارنے کی تو سوائے خاص معاملات کے اجازت ہے ہی نہیں۔اور وہاں بھی صرف دین کے معاملات میں اور اللہ تعالیٰ کے واضح احکامات کی خلاف ورزی کرنے کے معاملات میں اجازت ہے۔لیکن جومرد خود نماز نہیں پڑھتا، خوددین کے احکامات کی پابندی نہیں کر رہا وہ عورت کو کچھ کہنے کا کیا حق رکھتا ہے؟ تو مردوں کو شرائط کے ساتھ جو بعض اجازتیں ملی ہیں وہ عورت کے حقوق قائم کرنے کے لئے ہیں۔( شاید عورتوں کو یہ خیال ہو کہ یہ باتیں تو مردوں کو بتانی چاہئیں۔فکر نہ کریں ساتھ کی مارکی میں مردسن رہے ہیں بلکہ ساری دنیا میں سن رہے ہیں آپ کے حقوق کی حفاظت کے لئے۔) ایک صحابی کے اپنی بیوی کے ساتھ سختی سے پیش آنے اور ان سے حسن سلوک نہ کرنے پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو اللہ تعالیٰ نے الہاماً بیویوں سے حسن سلوک کرنے کا حکم فرمایا کہ: