اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ اوّل)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 135 of 377

اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ اوّل) — Page 135

الازهار لذوات الخمار جلد سوم حصہ اوّل 135 جلسہ سالانہ برطانیہ 2004 مستورات سے خطاب ہے جس نے عورت کو یہ حقوق دلوائے ہیں۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: بیوی اسیر کی طرح ہے۔اگر یہ عَاشِرُوهُنَّ بِالْمَعْرُوْفِ پر عمل نہ کرے تو وہ ایسا قیدی ہے جس کی کوئی خبر لینے والا نہیں۔الحکم قادیان جلد نمبر 8۔مورخہ 10 مارچ / 1904 صفحہ 6) غرض ان سب کی غور و پرداخت میں اپنے آپ کو بالکل الگ سمجھے اور ان کی پرورش محض رحم کے لحاظ سے کرے نہ کہ جانشین بنانے کے لئے بلکہ وَاجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِينَ إِمَامًا (سورة الفرقان: 75) کالحاظ ہو۔تو فرمایا کہ بیویوں سے حسن سلوک کرو کیونکہ جب وہ اپنا گھر چھوڑ کر تمہارے گھر آتی ہیں تو ان کے ساتھ نرمی اور رحم کا معاملہ ہونا چاہئے اور تقویٰ کو ہمیشہ پیش نظر رکھنا چاہئے۔ایک لڑکی جب اپنے ماں باپ کا گھر چھوڑ کر خاوند کے گھر آتی ہے تو اگر اس سے حسن سلوک نہ ہو تو اس کی اس گھر میں، سسرال کے گھر میں، اگر جائنٹ فیملی ہے تو وہی حالت ہوتی ہے جو ایک قیدی کی ہو رہی ہوتی ہے۔اور قیدی بھی ایسا جسے کوئی پوچھنے والا نہیں ہوتا۔لڑکی نہ خود ماں باپ کو بتاتی ہے نہ ماں باپ پوچھتے ہیں کہ بچی کا گھر خراب نہ ہو۔تو اگر لڑ کی اس طرح گھٹ گھٹ کر مر رہی ہو تو یہ ایک ظالمانہ فعل ہے۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ : یہ مت سمجھو کہ پھر عورتیں ایسی چیزیں ہیں کہ ان کو بہت ذلیل اور حقیر قرار دیا جاوے۔نہیں نہیں۔ہمارے ہادی کامل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: خَيْرُكُمْ خَيْرُكُمْ لَاهْلِهِ تم میں سے بہتر وہ شخص ہے جس کا اپنے اہل کے ساتھ عمدہ سلوک ہو۔بیوی کے ساتھ جس کا عمدہ چال چلن اور معاشرت اچھی نہیں وہ نیک کہاں؟ دوسروں کے ساتھ نیکی اور بھلائی تب کر سکتا ہے جب وہ اپنی بیوی کے ساتھ عمدہ سلوک کرتا ہو اور عمدہ معاشرت رکھتا ہو۔نہ یہ کہ ہر ادنی بات پر زد و کوب کرے۔ایسے واقعات ہوتے ہیں کہ بعض دفعہ ایک غصہ سے بھرا ہوا انسان بیوی سے ادنی سی بات پر ناراض ہو کر اس کو مارتا ہے اور کسی نازک مقام پر چوٹ لگی ہے اور بیوی