اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ اوّل) — Page 125
الازھار لذوات الخمار جلد سوم حصّہ اوّل 125 جلسہ سالانہ کینیڈ 2004 مستورات سے خطاب نفسانی جذبات سے مغلوب نہ ہوسکیں تو اس وقت اس بحث کو چھیڑو کہ آیا پردہ ضروری ہے کہ نہیں۔ورنہ موجودہ حالت میں اس بات پر زور دینا کہ آزادی اور بے پردگی ہو گویا بکریوں کو شیروں کے آگے رکھ دینا ہے۔اس لئے عورت تو بہر حال نازک ہے، مردوں کا مقابلہ نہیں کر سکتی۔اور ایسے حالات پیدا ہو جاتے ہیں۔چاہے کسی معاشرے میں ایک دو چار واقعات بھی ہو رہے ہوں وہ بہر حال قابل فکر ہوتے ہیں۔پھر آپ نے فرمایا: ان لوگوں کو کیا ہو گیا ہے کہ کسی بات کے نتیجے پر غور نہیں کرتے۔کم از کم اپنے کانشنس سے ہی کام لیں کہ آیا مردوں کی حالت ایسی اصلاح شدہ ہے کہ عورتوں کو بے پردہ ان کے سامنے رکھا جاوے۔‘ ( حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ایک جگہ فرمایا ہے کہ اپنے ضمیر سے فتویٰ لو۔دیکھو جو تمہارا دل کہتا ہے کہ یہ برائی ہے وہ برائی بہر حال ہے۔اگر وہ برائی نہیں ہے تو تمہیں کبھی دل ٹو کے گا نہیں، دل میں یہ خیال نہیں پیدا ہو گا کہ تم کیا کر رہی ہو، کئی سوال نہیں اٹھیں گے۔) " قرآن شریف نے جو کہ انسان کی فطرت کے تقاضوں اور کمزور یوں کو مد نظر رکھ کر حسب حال تعلیم دیتا ہے کیا عمدہ مسلک اختیار کیا ہے۔قُلْ لِلْمُؤْمِنِيْنَ يَغُضُّوا مِنْ أَبْصَارِهِمْ وَيَحْفَظُوْا فُرُوْجَهُمْ ذَلِكَ أَزْكَى لَهُمْ (سورة النور:31) کہ تو ایمان والوں کو کہہ دے کہ وہ اپنی نگاہوں کو نیچا رکھیں اور اپنے سوراخوں کی حفاظت کریں۔یہ وہ عمل ہے جس سے ان کے نفوس کا تزکیہ ہوگا“۔( ملفوظات جلد چہارم صفحہ 104-105 جدید ایڈیشن) تو قرآن کی تعلیم تو بہر حال جھوٹی نہیں ہو سکتی۔اگر آپ کے خیالات معاشرے میں رہ کر کچھ بگڑ گئے ہیں تو وہ بہر حال جھوٹے ہو سکتے ہیں لیکن اللہ تعالیٰ کا کلام کبھی جھوٹا نہیں ہوسکتا۔اور پھر یہ جو