اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ اوّل) — Page 124
الازهار لذوات الخمار جلد سوم حصہ اوّل 124 جلسہ سالانہ کینیڈ 2004 مستورات سے خطاب بسر کرنا ایک عملی نتیجہ اس اجازت کا ہے جو غیر عورت کو دیکھنے کیلئے دی گئی۔پھر آپ فرماتے ہیں کہ: ( ملفوظات جلد اول صفحہ 21-22 جدید ایڈیشن) یورپ کی طرح بے پردگی پر بھی لوگ زور دے رہے ہیں۔لیکن یہ ہرگز مناسب نہیں۔یہی عورتوں کی آزادی فسق و فجور کی جڑ ہے۔جن ممالک نے اس قسم کی آزادی کو روا رکھا ہے ذرا ان کی اخلاقی حالت کا اندازہ کرو“۔آپ یہاں ان ملکوں میں رہتے ہیں۔یہاں کی اخلاقی حالت کا اندازہ خود ہی کر لیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے آج سے سو سال پہلے بتا دیا ہے: اگر اس کی آزادی اور بے پردگی سے ان کی عفت اور پاکدامنی بڑھ گئی ہے تو ہم مان لیں گے کہ ہم غلطی پر ہیں۔لیکن یہ بات بہت ہی صاف ہے کہ جب مرد اور عورت جوان ہوں اور آزادی اور بے پردگی بھی ہو تو ان کے تعلقات کس قدر خطر ناک ہوں گے۔بد نظر ڈالنی اور نفس کے جذبات سے اکثر مغلوب ہو جانا انسان کا خاصہ ہے۔پھر جس حالت میں کہ پردہ میں بے اعتدالیاں ہوتی ہیں اور فسق و فجور کے مرتکب ہو جاتے ہیں تو آزادی میں کیا کچھ نہ ہوگا“۔آپ اس معاشرے میں رہتے ہیں اور اگر گہری نظر ہوتو آبزرو (Observe) کر سکتے ہیں۔”مردوں کی حالت کا اندازہ کرو کہ وہ کس طرح بے لگام گھوڑے کی طرح ہو گئے ہیں۔نہ خدا کا خوف رہا ہے نہ آخرت کا یقین ہے۔دنیاوی لذات کو اپنا معبود بنارکھا ہے۔پس سب سے اول ضروری ہے کہ اس آزادی اور بے پردگی سے پہلے مردوں کی اخلاقی حالت درست کرو“۔آپ نے فرمایا ٹھیک ہے تم چاہتے ہو آزاد ہو جاؤ، پردہ سانس روکتا ہے یا بہت ساری روکیں ڈالتا ہے پھر اس سے پہلے یہ ہے کہ مردوں کی پہلے اصلاح کر لو۔تمہیں کیا پتہ کہ ان کے ذہنوں میں کیا کچھ ہے۔اگر یہ درست ہو جاوے اور مردوں میں کم از کم اس قدر قوت ہو کہ وہ اپنے