اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ اوّل)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 118 of 377

اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ اوّل) — Page 118

الازهار لذوات الخمار جلد سوم حصہ اوّل 118 جلسہ سالانہ کینیڈ 2004 مستورات سے خطاب اندر قائم ہے۔اگر کوئی مسئلہ ایسا ہو بھی تو خلیفہ وقت کو پیش کرو۔اگر تم اس طرح اپنی اور اپنی اولادوں کی زندگی گزارنے والی ہوگی تو پھر تم ایمان میں بھی ترقی کرو گی۔اور جب تم ایمان میں ترقی کروگی تو روحانیت میں بھی ترقی کر رہی ہوگی۔اور اس کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ کی ذات کا عرفان اور اس کا قرب بھی حاصل کر رہی ہوگی۔تمہاری خصوصیت ہونی چاہئے کہ تم ہمیشہ سچ بولنے والی ہو پھر فرمایا کہ یہ بھی تمہاری خصوصیت ہونی چاہئے کہ تم ہمیشہ سچ بولنے والی ہو۔کہیں کبھی یہ نہ ہو کہ تمہارا ذاتی مفاد تمہیں سچ سے دور لے جائے۔اپنا فائدہ حاصل کرنے کے لئے کبھی یہ نہ ہو کہ تم جھوٹ بول جاؤ۔اگر ایسا ہوا تو پھر تم اپنے دعوئی میں بچی نہیں۔یہ بیعت کا اقرار جو تم نے کیا ہے تم اس میں کچی نہیں ہوگی۔یاد رکھیں اگر ماں میں غلط بیانی کی عادت ہوگی تو بچوں میں بھی وہ عادت لاشعوری طور پر پیدا ہوتی چلی جائے گی۔اور پھر جب یہ گندی جاگ لگتی ہے تو باقی نیکیوں کو بھی ختم کر دیتی ہے۔تو سچ کے اعلیٰ معیار قائم کریں بلکہ قول سدید سے کام لیں یعنی اس حد تک سچ بولیں کہ کوئی ایسا لفظ بھی آپ کے منہ سے نہ نکلے جس سے کئی مطلب نکالے جا سکتے ہوں، جو ہوشیاری اور چالا کی سے آپ نے ادا کیا ہوتا کہ ضرورت پڑے تو میں اس سے مکر جاؤں۔صاف اور کھری بات کریں۔لیکن اس کا یہ مطلب بھی نہیں ہے کہ بعض گھریلو مسائل میں بعض ایسی باتیں کی جائیں جو بچوں کو اپنے بڑوں سے پرے ہٹانے والی ہوتی ہیں۔بعض دفعہ عورتیں بچوں کے سامنے گھر بیٹھ کر ایسی باتیں کر جاتی ہیں کہ جن سے ان کے ساس سسر یا دادا دادی کی کمزوریاں ظاہر ہو جاتی ہیں۔حالانکہ بات اس طرح نہیں ہوتی جس طرح بیان کی جارہی ہوتی ہے۔بلکہ بہو اپنی ناراضگی کی وجہ سے جو اس کو اپنی ساس اور سسر سے ہے تو ڑ مروڑ کر بات کر رہی ہوتی ہے۔تو نہ صرف بچوں میں بلکہ جب اس عورت کے میکے میں یہ بات پہنچتی ہے تو پھر دونوں گھروں کے بڑوں میں لڑائیاں شروع ہو جاتی ہیں، رنجشیں پیدا ہونی شروع ہو جاتی ہیں۔اس لئے سچ یہ ہے کہ بات کرنے سے پہلے اس کا اچھی طرح تجزیہ کرو۔اور پھر یہ بھی ضروری نہیں کہ اگر وہ برائی کسی بڑے میں ہے بھی تو ضرور اس کا چر چا کیا جائے اور دنیا کو بتایا جائے کہ فلاں بزرگ میں برائی ہے۔پردہ پوشی کا بھی حکم ہے، لحاظ کا بھی حکم ہے، اپنے خاندان کی عزت اور