اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ اوّل) — Page 119
الازھار لذوات الخمار جلد سوم حصّہ اوّل 119 جلسہ سالانہ کینیڈ 2004 مستورات سے خطاب وقاررکھنے کا بھی حکم ہے۔بیچ کا یہاں یہ مطلب ہے کہ اگر تمہیں کسی ایسے معاملے میں جو نظام جماعت میں پیش ہوتا ہے یا کہیں بھی پیش ہوتا ہے، اپنے خلاف بھی گواہی دینی پڑے یا اپنے رشتہ داروں کے خلاف گواہی دینی پڑے یا اپنے ماں باپ کے خلاف بھی گواہی دینی پڑے تو تم اس وجہ سے پریشان نہ ہو یا جھوٹ نہ بولو کہ اس سے مجھے نقصان پہنچ سکتا ہے یا میرے عزیزوں اور رشتہ داروں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔بلکہ سچ تو یہ ہے کہ اس گواہی کو پھر حو صلے سے دو۔قرآن کریم میں تو یہ آیا ہے کہ دشمن کے خلاف بھی ایسی گواہی نہ دو یا دشمن قوم بھی تمہیں جھوٹ بولنے پر مجبور نہ کرے۔صبر اور عجز وانکسار کرنے والیاں پھر ایک خصوصیت یہ بیان فرمائی کہ صبر بھی ایک بہت بڑی خوبی ہے۔اگر یہ تمہارے اندر پیدا ہو جائے تو بہت سارے جھگڑے گھریلو بھی ، ہمسائیوں کے ساتھ بھی ، رشتہ داروں کے ساتھ بھی پیدا ہی نہیں ہوں گے۔اس لئے صبر کرنے کی عادت اپنے اندر پیدا کرو اور اپنی اولادوں کے اندر بھی پیدا کرو۔پھر عاجزی کا وصف ہے جو بہت بڑا وصف ہے۔اگر انسان اس پر نظر رکھے اور ہمیشہ یہ احساس رہے کہ میں تو کچھ چیز نہیں۔بڑائی کا احساس تو مقابلہ کی چیز ہے یعنی نسبتی مقابلہ۔اگر ہم اپنی نظر ذرا وسیع کریں اور ان نسبتوں سے آگے جا کر بھی دیکھیں جو ہمیں سامنے نظر آتی ہیں تو بڑائی کا احساس، اپنے کچھ ہونے کا احساس خود بخود ختم ہو جاتا ہے۔ایک پیسے والی عورت مالی لحاظ سے اپنے سے کم عورت کو اگر تحقیر کی نظر سے دیکھتی ہے یا کم نظر سے دیکھتی ہے یا اس کو اپنے سے کمتر سمجھتی ہے اور اس کو دیکھ کر ناک بھوں چڑھاتی ہے، پسند نہیں کرتی کہ اس کے پاس بیٹھے، تو پھر جب اس کے ساتھ بھی یہی سلوک ہورہا ہوا سے اس وقت حوصلہ دکھانا چاہئے۔معاشی لحاظ سے اس سے بہتر عورت اگر اس سے یہی سلوک کر رہی ہو پھر بھی حوصلہ دکھائیں۔ایک عورت کو اس وقت جو تکلیف کا احساس ہوتا ہے جب اس کے ساتھ یہ سلوک ہو رہا ہو، کوئی اس کو کم نظر سے دیکھ رہا ہو، تو وہی احساس پھر آپ کو دوسرے کے لئے بھی کرنا چاہئے۔یہ احساس آپ کے دل میں دوسروں کے لئے بھی پیدا ہونا چاہئے اور یہ احساس رہنا چاہئے کہ یہ دنیا کی چیزیں تو عارضی چیزیں ہیں، آنی جانی چیزیں ہیں۔نہ