اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ اوّل) — Page 101
الازھار لذوات الخمار‘ جلد سوم حضہ اوّل 101 خطبہ جمعہ فرمودہ 28 مئی 2004 بمقام گروس گراؤ جرمنی جائے گی کیونکہ مال خود بخود نہیں آتا بلکہ خدا کے ارادہ سے آتا ہے۔پس جو شخص خدا کے لئے بعض حصہ مال کا چھوڑتا ہے وہ ضرور اسے پائے گا“۔یعنی جو اس نیت سے چھوڑتا ہے کہ میں نے اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرنا ہے وہ اپنا نہیں سمجھتا۔اب 1/16 جو چندہ ہے، جو یہ سمجھے میری آمد میں سے 15 حصے تو میرے ہیں یہ 16 واں حصہ خدا تعالیٰ کا ہے تو آپ فرماتے ہیں وہ ضرور اس سے حصہ پائے گا۔و لیکن جو شخص مال سے محبت کر کے خدا کی راہ میں وہ خدمت بجا نہیں لاتا جو بجا لانی چاہئے تو وہ ضرور اس مال کو کھوئے گا“۔یعنی ایک احمدی ہونے کے بعد پھر اگر ایسی سوچ ہوگی تو آپ فرماتے ہیں اس کا مال ضائع بھی ہوگا۔یہ مت خیال کرو کہ مال تمہاری کوشش سے آتا ہے بلکہ خدا تعالیٰ کی طرف سے آتا ہے۔اور یہ مت خیال کرو کہ تم کوئی حصہ مال کا دے کر یا کسی اور رنگ سے کوئی خدمت بجالا کر خدا تعالیٰ اور اس کے فرستادہ پر کچھ احسان کرتے ہو بلکہ یہ اُس کا احسان ہے کہ تمہیں اس خدمت کے لئے بلاتا ہے۔اور میں سچ سچ کہتا ہوں کہ اگر تم سب کے سب مجھے چھوڑ دو اور خدمت اور امداد سے پہلوتہی کرو تو وہ ایک قوم پیدا کر دے گا کہ اس کی خدمت بجالائے گی۔تم یقیناً سمجھو کہ یہ کام آسمان سے ہے اور تمہاری خدمت صرف تمہاری بھلائی کے لئے ہے۔پس ایسا نہ ہو کہ تم دل میں تکبر کرو اور یا یہ خیال کرو کہ ہم خدمت مالی یا کسی قسم کی خدمت کرتے ہیں۔میں بار بار تمہیں کہتا ہوں کہ خدا تمہاری خدمتوں کا ذرا محتاج نہیں ہاں تم پر یہ اس کا فضل ہے کہ تم کو خدمت کا موقعہ دیتا ہے“۔( مجموعہ اشتہارات جلد سوم صفحہ 497-498) اللہ کرے کہ ہم ہمیشہ ان توقعات پر پورا اترتے رہیں جو حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ہم سے کی ہیں۔اور ہمیشہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی دعاؤں کے وارث بنتے رہیں۔اور ہمیشہ اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو سمیٹنے کے لئے اس کی راہ میں قربانیاں پیش کرنے والے بنتے رہیں۔اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس کی توفیق عطا فرمائے۔آمین