اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ اوّل) — Page 100
الازهار لذوات الخمار جلد سوم حصہ اوّل 100 خطبہ جمعہ فرمودہ 28 مئی 2004 بمقام گروس گراؤ جرمنی خدا تعالیٰ کی رحمت سے جو تم پر ہے میرے سلسلہ بیعت میں داخل ہو اور اپنی زندگی ، اپنا آرام ، اپنا مال اس راہ میں فدا کر رہے ہو اگر چہ میں جانتا ہوں کہ میں جو کچھ کہوں تم اسے قبول کرنا اپنی سعادت سمجھو گے اور جہاں تک تمہاری طاقت ہے دریغ نہیں کرو گے۔لیکن میں اس خدمت کے لئے معین طور پر اپنی زبان سے تم پر کچھ فرض نہیں کر سکتا۔تا کہ تمہاری خدمتیں نہ میرے کہنے کی مجبوری سے بلکہ اپنی خوشی سے ہوں“۔فتح اسلام۔روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 33-34) ماہوار چندے کی شرح خلافت ثانیہ میں مقرر ہوئی ماہوار چندے کی شرح خلافت ثانیہ میں مقرر ہوئی جب با قاعدہ ایک نظام قائم ہوا اور چندہ عام کی شرح 1/16 اس وقت سے قائم ہے۔لیکن حضرت مصلح موعودؓ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ایک ارشاد سے استنباط کر کے یہ شرح مقرر کی تھی۔تو بہر حال جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا کہ ماہوار چندے کے علاوہ اپنی وسعت کے لحاظ سے اکٹھی رقم بھی تم دے سکتے ہو اور اس کے لئے جماعت میں مختلف تحریکات ہوتی رہتی ہیں۔اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے لوگ اس میں حصہ لیتے ہیں۔لیکن جیسا کہ میں نے پہلے بھی کہا ہے کہ اس نیت سے اور اس ارادے سے ہرادائیگی ، ہر چندہ اور ہر وعدہ ہو کہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرنا ہے نہ کہ کسی بناوٹ کی وجہ سے۔اور ہمیشہ جب بھی خرچ کریں اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنا چاہئے کہ اس نے ہمیں ہر نئی تحریک میں حصہ لینے کی توفیق دی یا فرض ماہوار چندہ کو ادا کرنے کی توفیق دی، بجٹ پورا کرنے کی توفیق دی۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ: تمہارے لئے ممکن نہیں کہ مال سے بھی محبت کرو اور خدا سے بھی۔صرف ایک سے محبت کر سکتے ہو۔پس خوش قسمت وہ شخص ہے کہ خدا سے محبت کرے۔اور اگر کوئی تم میں سے خدا سے محبت کر کے اس کی راہ میں مال خرچ کرے گا تو میں یقین رکھتا ہوں کہ اس کے مال میں بھی دوسروں کی نسبت زیادہ برکت دی