اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ اوّل)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 99 of 377

اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ اوّل) — Page 99

الازهار لذوات الخمار جلد سوم حصہ اوّل 99 خطبہ جمعہ فرمودہ 28 مئی 2004 بمقام گروس گراؤ جرمنی اور اس کے سارے پہلوؤں کو بہ نظر عزت دیکھ کر بہت جلد حق خدمت ادا کرنا چاہئے۔جو شخص اپنی حیثیت کے موافق کچھ ماہواری دینا چاہتا ہے وہ اس کو حق واجب اور دین لازم کی طرح سمجھ کر خود بخود ماہوار اپنی فکر سے ادا کرے اور اس فریضہ کو خالصتاًاللہ نذر مقرر کر کے اس کے ادا میں تخلف یا سہل انگاری کو روانہ رکھے“۔یعنی کسی قسم کی سستی وغیرہ نہ ہونی چاہئے۔اور جو شخص یکمشت امداد کے طور پر دینا چاہتا ہے وہ اسی طرح ادا کرے۔لیکن یادر ہے کہ اصل مدعا جس پر اس سلسلہ کے بلا انقطاع چلنے کی امید ہے یعنی بغیر کسی روک کے چلنا چاہئے وہ ” یہی انتظام ہے کہ بچے خیر خواہ دین کے اپنی بضاعت اور اپنی بساط کے لحاظ سے“ اپنی طاقت کے لحاظ سے، اپنے وسائل کے لحاظ سے ایسی سہل رقمیں ماہواری کے طور پر ادا کرنا اپنے نفس پر ایک حتمی وعدہ ٹھہرا لیں جن کو بشرط نہ پیش آنے کسی اتفاقی مانع کے بآسانی ادا کر سکیں“۔یعنی اگر کوئی اتفاقی حادثہ نہ پیش آجائے آمدنی میں کمی نہ ہو جائے ، کاروبار میں نقصان نہ ہو جائے سوائے اس کے کہ ایسا کوئی اتفاقی حادثہ پیش آ جائے ضرور ہے، لازمی ہے کہ ماہوار چندہ ادا کیا کریں۔پھر فرمایا: ’ہاں جس کو اللہ جلشانہ توفیق اور انشراح صدر بخشے وہ علاوہ اس ماہواری چندہ کے اپنی وسعت، ہمت اور انداز ہ مقدرت کے موافق یکمشت کے طور پر بھی مدد کر سکتا ہے۔یعنی ماہوار چندہ ادا کرنے کے علاوہ جو بھی توفیق ہو ، اسے جو بھی طاقت ہے اور آمدنی ہے اس کے حساب سے پھر اگر اکٹھی رقم بھی دینی پڑے تو دی جائے۔پھر فرمایا: اور تم اے میرے عزیزو! میرے پیارو! میرے درخت وجود کی سرسبز شا خو! جو