اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ اوّل)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 98 of 377

اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ اوّل) — Page 98

الازهار لذوات الخمار جلد سوم حصہ اوّل 98 خطبہ جمعہ فرمودہ 28 مئی 2004 بمقام گروس گراؤ جرمنی زمانے میں بھی عارضی طور پر تحریک ہوتی تھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں اور پھر خلفاء کے زمانے میں بھی۔تو باوجود اس کے کہ زکوۃ لی جاتی تھی ، ان تحریکات میں صحابہ بھی حصہ لیتے تھے۔اس لئے باوجود اس کے کہ جماعت میں چندوں کا ایک نظام جاری ہے اور جو چندے ادا کرتے ہیں وہ اس سے بہت زیادہ ہیں جو زکوۃ کی شرح ہے۔بہر حال یہ بھی ایک فرض ہے اس کی طرف توجہ کرنی چاہئے۔اور نصاب اور شرح کے مطابق زکوۃ کو ادا کرنا چاہئے۔اور خاص طور پر جس طرح میں نے کہا عورتیں اس طرف توجہ کریں تو انشاء اللہ تعالیٰ زکوۃ کی رقم میں بھی کافی اضافہ ہو سکتا ہے۔ایک روایت میں آتا ہے: حضرت عمرو بن شعیب اپنے دادا کے واسطے سے روایت کرتے ہیں کہ ایک عورت اپنی بیٹی کو ساتھ لے کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئی، اس کی بیٹی نے سونے کے بھاری کنگن پہنے ہوئے تھے۔حضور نے اس عورت سے پوچھا کہ کیا ان کی زکوۃ بھی دیتی ہو؟ اس نے جواب دیا نہیں یا رسول الله ؟ تو آپ نے فرمایا کہ کیا تو پسند کرتی ہے کہ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن تجھے آگ کے کنگن پہنائے ؟۔یہ سن کر اس عورت نے اپنی بیٹی کے ہاتھ سے کنگن اتار لئے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کرتے ہوئے عرض کیا کہ یہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے لئے ہیں، جہاں چاہیں آپ خرچ فرمائیں۔(سنن ابوداؤد كتاب الزكواة باب الكفرما هو وزكوة الحلى) اور دوسری روایت میں ہے کہ آپ نے فرمایا کہ اگر تم یہ نہ دیتیں تو آگ کے کنگن پہنائے جاتے۔اس روایت کے بعد خاص طور پر جن پر زکوۃ واجب ہے ان کو توجہ دینی چاہئے۔اور جیسا کہ میں نے کہا عورتوں پر زیادہ واجب ہوتی ہے ان کے خاوندوں کو ان کی مددکر نی چاہیئے۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ : ” سواے اسلام کے ذی مقدرت لوگو! دیکھو میں یہ پیغام آپ لوگوں تک پہنچا دیتا ہوں کہ آپ لوگوں کو اس اصلاحی کارخانہ کی جو خدا تعالیٰ کی طرف سے نکلا ہے اپنے سارے دل اور ساری توجہ اور سارے اخلاص سے مدد کرنی چاہئے۔