اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ اوّل)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 97 of 377

اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ اوّل) — Page 97

الازهار لذوات الخمار جلد سوم حصہ اوّل 97 خطبہ جمعہ فرمودہ 28 مئی 2004 بمقام گروس گراؤ جرمنی لیکن یہ بھی دوسری جگہ فرما دیا کہ انفاق فی سبیل اللہ دکھاوے کے لئے نہ ہو بلکہ خالصتا اللہ تعالیٰ کے لئے ہو۔اس کی محبت حاصل کرنے کے لئے ہو۔اللہ تعالیٰ ہم سب کو خالصتا اللہ تعالیٰ کی خاطر اور اس کا پیار حاصل کرنے کی خاطر ہی قربانیوں کی توفیق دے۔ایک اہم چندہ جس کی طرف میں توجہ دلانی چاہتا ہوں وہ زکوۃ ہے۔زکوۃ کا بھی ایک نصاب ہے اور معین شرح ہے عموماً اس طرف توجہ کم ہوتی ہے۔زمینداروں کے لئے بھی جو کسی قسم کا ٹیکس نہیں دے رہے ہوتے ان پر زکوۃ واجب ہے۔اسی طرح جنہوں نے جانور وغیرہ بھیڑ، بکریاں، گائے وغیرہ پالی ہوتی ہیں ان پر بھی ایک معین تعداد سے زائد ہونے پر یا ایک معین تعداد ہونے پر زکوۃ ہے۔پھر بنگ میں یا کہیں بھی جو ایک معین رقم سال بھر پڑی رہے اس پر بھی زکوۃ ہوتی ہے۔پھر عورتوں کے زیوروں پر زکوۃ ہے۔اب ہر عورت کے پاس کچھ نہ کچھ زیور ضرور ہوتا ہے۔اور بعض عورتیں بلکہ اکثر عورتیں جو خانہ دار خاتون ہیں، جن کی کوئی کمائی نہیں ہوتی وہ لازمی چندہ جات تو نہیں دیتیں، دوسری تحریکات میں حصہ لے لیتی ہیں۔لیکن اگر ان کے پاس زیور ہے، اس کی بھی شرح کے لحاظ سے مختلف فقہاء نے بحث کی ہوئی ہے۔باون تولے چاندی تک کا زیور ہے یا اس کی قیمت کے برابرا گر سونے کا زیور ہے تو اس پر زکوۃ فرض ہے، اور اڑھائی فی صد اس کے حساب سے زکوۃ دینی چاہئے اس کی قیمت کے لحاظ سے۔اس لئے اس طرف بھی عورتوں کو خاص طور پر توجہ دینی چاہئے اور زکوۃ ادا کیا کریں۔بعض جگہ یہ بھی ہے کہ کسی غریب کو پہننے کے لئے زیور دے دیا جائے تو اس پر ز کو نہیں ہوتی لیکن آج کل اتنی ہمت کم لوگ کرتے ہیں کسی کو دیں کہ پتہ نہیں اس کا کیا حشر ہو۔اس لئے چاہئے کہ جو بھی زیور ہے، چاہے خود مستقل پہنتے ہیں یا عارضی طور پر کسی غریب کو پہنے کے لئے دیتے ہیں احتیاط کا تقاضا یہی ہے کہ اس پر زکوۃ ادا کر دیا کریں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام نے تو حضرت اماں جان کے بارے میں فرمایا کہ وہ با وجود اس کے کہ غرباء کو بھی زیور پہننے کے لئے دیتی تھیں لیکن پھر بھی زکوۃ ادا کیا کرتی تھیں۔تو احمدی خواتین کوز کو ۃ ادا کرنے کی طرف خاص طور پر توجہ دینی چاہئے۔اور جب عورتوں کی کوئی آمد نہیں ہوتی اور اکثر عورتوں کی آمد نہیں ہے تو ظاہر ہے پھر اس زکوۃ کی ادائیگی میں مردوں کو مدد کرنی ہوگی۔اسلام کے ابتدائی زمانے میں جب بھی دینی ضروریات کے لئے رقم کی ضرورت ہوتی تھی۔اس