اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 89
حضرت خلیفہ مسیح الرابع " کے مستورات سے خطابات ۸۹ خطاب یکم اگست ۷ ۱۹۸ء اور جبریل اور صالح مومنین ، سب محمد مصطفی صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے ساتھ ہیں اور خدا تعالیٰ کے فرشتے بھی اس کے پس پشت کھڑے ہیں۔عَلَى رَبُّةَ إِنْ طَلَّقَكُنَّ أَنْ تُبْدِلَةَ أَزْوَاجًا خَيْرًا مِنْكُنَّ (التحریم: 1) اگر تمہیں طلاق بھی دینی پڑے تو خدا تعالیٰ تم سے بہت بہتر بیویوں کا اس کے لئے انتظام کر سکتا ہے وہ تمہار احتاج نہیں ہے۔اس محتاجی کے نہ ہونے کے باوجود یہ نصیحت کا طریق ہے اور اس آیت کی تفسیر پیش کی جارہی ہے کہ اگر تمہارے خلاف عورتیں نشوز کریں تو تم انہیں کیسی نصیحت کرو اور اس نصیحت کے بعد پھر اگلے کسی دوسرے اقدام کی ضرورت ہی پیش نہیں آئی۔آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے عورتوں کو جس ذلت کے مقام سے اُٹھا کر ایک نہایت ہی عالی شان اور ارفع مقام پر پہنچا دیا تھا اس کے نتیجہ میں عرب معاشرہ میں بنیادی تبدیلیاں پیدا ہوگئیں۔حضور اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو خدا تعالیٰ نے جو پاک تعلیم دی اور آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے اس کے مطابق جو پاک نمونہ دکھایا اس کے نتیجہ میں ایک نئی سوسائٹی وجود میں آئی ہے اور عورتوں نے مردوں کے برابر اپنے آپ کو سمجھا اور اپنے حق کو برابری کے ساتھ وصول کیا ہے۔اس سے پہلے وہم وگمان میں بھی نہیں آسکتی تھی بات کہ کوئی عورت اپنے باپ کے مقابل پر کھڑی ہوکر اپنا حق مانگ رہی ہو یا اپنے خاوند کے مقابل کھڑی ہو کر حق مانگ رہی ہو یا کسی غیر سے اپنا حق مانگ رہی ہو۔وہ بیچاری تو مظلوم چیز تھی۔ورثے میں بانٹی جایا کرتی تھی چنانچہ اسی واقعہ کے متعلق جس کا ذکر قرآن کریم کی پہلی آیت میں ہے جو میں نے آپ کے سامنے پڑھی ہے یعنی اس آیت سے پہلی آیت جس میں ذکر تھا کہ اگر تمام مطالبے کرتی رہو گی تو پھر تمہیں اس بات کی رخصت ہے کہ میں تمہیں بہت مال و دولت دے کر اور پوری طرح راضی کر کے رخصت کر دیتا ہوں۔جب یہ آیت نازل ہوئی تو حضرت محمد مصطفی اصلی اللہ علیہ والہ وسلم نے اُن کو سمجھانے کی خاطر علیحدگی اختیار کر لی کچھ عرصہ کے لئے۔اس وقت ان ازواج مطہرات کے والدین جن کو یہ معلوم ہوا، وہ سمجھانے کے لئے اپنی اپنی بیٹیوں کے پاس پہنچے۔حضرت ابوبکر اور حضرت عمرؓ کا ذکر ملتا ہے کہ خاص طور پر انہوں نے حضرت عائشہ اور حضرت حفصہ کو سمجھانے کی کوشش کی اپنی طرف سے پھر وہ حضرت ام سلمی کے پاس پہنچے تو انہوں نے جواب دیا کہ آپ حضرات کا یہاں کام کیا ہے۔رسول اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم