اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 88 of 705

اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 88

۸۸ خطاب یکم اگست ۱۹۸۷ء حضرت خلیفہ مسیح الرابع " کے مستورات سے خطابات تمہیں دولت دیتا ہوں ناراضگی کی کوئی بات نہیں مجھ سے رخصت ہو جاؤ۔پھر قرآن کریم فرماتا ہے کہ ایسی باتیں بھی ہوئیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ایک راز کی بات اپنی کسی زوجہ محترمہ کو بتائی اور انہوں نے اس راز کو دوسروں پر ظاہر کر دیا۔بما حفظ اللہ کے خلاف بات ہے بظاہر یہ اور خود آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی امانت۔اس سے زیادہ مقدس امانت اور کیا ہو سکتی ہے۔اس کے نتیجہ میں بھی حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے کوئی سخت کلامی نہیں کی۔مارنا تو درکنار، چنانچہ آپ نے انہیں صرف اتنا بتایا کہ تم نے یہ راز ظاہر کر دیا ہے۔فَلَمَّا نَبَّاهَا بِهِ قَالَتْ مَنْ أَنْبَاكَ هَذَا قَالَ نَبَّانِيَ الْعَلِيمُ الْخَبِيرُ (التحریم:۴) جب آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے اپنی زوجہ محترمہ کو بتایا کہ جوراز میں نے تمہیں کہا تھا کسی کو نہیں بتا نا تم نے ظاہر کر دیا۔اس کے سوا کچھ نہیں کہا۔انہوں نے جواباًیہ کہا کہ آپ کو کس نے بتا دیا ان کو یہ خیال نہیں آیا شاید کہ عورتوں کو اگر یہ کہا جائے کہ بات آگے نہیں بتانی تو وہ ضرور بتاتی ہیں۔یا شاید اسی خیال کی وجہ سے انہوں نے پوچھا ہوگا کہ ضرور اس نے بات بتادی ہے لیکن کسی نے نہیں بتائی تھی۔اللہ تعالیٰ نے بتائی تھی۔فرمایا مجھے تو علیم خبیر خدا نے بتا دیا ہے۔اس سے کوئی راز پوشیدہ نہیں ہے اور اس کا حق ہے کہ جس کو چاہے، جس کے چاہے راز بتا تا ر ہے۔پھر فرمایا إِنْ تَتُوبَا إِلَى اللهِ فَقَدْ صَغَتْ قُلُوْبُكُمَا ۚ وَاِنْ تَظْهَرَا عَلَيْهِ فَإِنَّ اللَّهَ هُوَ مَوْلَهُ وَجِبْرِيلُ وَصَالِحُ الْمُؤْمِنِينَ (التحریم: ۵) کہ میں تمہیں یہ نصیحت کرتا ہوں کہ اگر تم دونوں عورتیں ( یعنی ایک نے دوسری کو بتایا تھا ) تم دونوں تو بہ کرو تو حق ہے کیونکہ تمہارے دل غلطی کی طرف مائل ہو چکے ہیں۔تم سے ایک جرم سرزد ہو چکا ہے اس لئے تو بہ کرو تو اس کی حقدار ہو۔اول تمہیں تو یہ کرنی چاہئے لیکن اگر نہیں کرتیں۔اِنْ تَتُوبَا إِلَى اللهِ فَقَدْ صَغَتْ قُلُوْبُكُمَا ۚ وَإِن تَظْهَرَا عَلَيْهِ فَإِنَّ اللهَ هُوَ مَوْلهُ وَجِبْرِيلُ وَصَالِحُ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمَلَيْكَةُ بَعْدَ ذَلِكَ ظَهِيرُ (التحریم: ۵) اگر محمد مصطفی صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے خلاف تم نے بغاوت ہی کا فیصلہ کر لیا ہے۔تو یا درکھواللہ