اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 661
۶۶۱ خطاب ۲۹ جولائی ۲۰۰۰ء حضرت خلیفہ مسح الرابع" کے مستورات سے خطابات حضرت ابن عباس سے سنادہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نکے اور آپ کے ساتھ حضرت بلال بھی تھے۔آپ کو خیال ہوا کہ آپ کی آواز شاید عورتوں تک سنائی نہیں دی چنانچہ آپ ان کے پاس تشریف لے گئے۔آپ نے ان کو نصیحت فرمائی اور صدقہ کی تحریک فرمائی۔چنانچہ عورتیں اپنی بالیاں اور انگوٹھیاں اُتار اُتار کر صدقہ کرنے لگیں اور حضرت بلال اپنے کپڑے کے ایک دامن میں اسے اکٹھا کرتے جارہے تھے۔ایک روایت بخاری کتاب الحج میں حضرت ابن عباس سے مروی ہے کہ جھینہ قبیلے کی ایک عورت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور عرض کیا کہ میری ماں نے نذر مانی تھی کہ حج کرے گی مگر وہ حج نہ کر سکی اور اس کی وفات ہوگئی کیا اب میں اس کی طرف سے حج کر سکتی ہوں۔آپ نے فرمایا ہاں اس کی طرف سے حج کر لو۔تمہارا کیا خیال ہے اگر تمہاری ماں پر کوئی قرض ہوتا تو تم ادا کرتی یا نہیں؟ اللہ کے حق پورے کرو اللہ وفا کا زیادہ حق دار ہے۔ایک اور روایت ابن ماجہ کی حضرت قبلہ ام بنی عمار سے مروی ہے کہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک عمرے کے وقت مروٹی کے مقام پر حاضر ہوئی اور عرض کیا کہ میں ایک تاجر عورت ہوں۔میرا خریدنے کا طریقہ یہ ہے کہ چیز کی پہلے بہت کم قیمت بتاتی ہوں پھر آہستہ آہستہ قیمت زیادہ کرتی جاتی ہوں اور جس قیمت پر خریدنی مقصود ہو اس پر مال خرید لیتی ہوں۔اسی طرح جو چیز فروخت کرنی ہوتی ہے پہلے اس کے دام بہت زیادہ بتاتی ہوں پھر آہستہ آہستہ دام کم کرتی جاتی ہوں۔اس پر جس قیمت پر مال فروخت کرنا مقصود ہو اس پر مال فروخت کر دیتی ہوں۔یہ سن کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے قبیلہ اس طرح نہ کیا کرو بلکہ قیمت مقرر ہونی چاہئے۔جس قیمت پر خریدنا ہو وہ صحیح قیمت بتا دو اگر اس نے اس قیمت پر دینا ہو تو دے دے اور نہ دینا ہوتو نہ دے۔اسی طرح فروخت کرتے وقت اصل قیمت بتاؤ اگر کسی نے لینی ہو تو لے ورنہ اس کی مرضی۔اب آج کی دنیا میں یہ رواج ہے کہ قیمتیں مقرر اور Fix ہوتی ہیں اور کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سنت جاری فرمائی ہے۔ویسے عورتوں کی عموماً جیسے اس زمانے میں عادت تھی اب بھی یہی عادت ہے وہ سودے اسی طرح کیا کرتی ہیں۔مجھے یاد ہے ایک دفعہ اٹلی میں ایک سٹور پر گئے میں اور آصفہ مرحومہ۔مجھے دکاندار نے جو قیمت بتائی وہ تھوڑی تھی اور آصفہ کو جو قیمت بتائی وہ بہت زیادہ تھی۔تو بیچاری نے اسی قیمت پر چیز