اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 603
حضرت خلیفہ مسح الرابع کے مستورات سے خطابات ۶۰۳ خطاب ۳۱ جولائی ۱۹۹۹ء کہ انسان کا کیا حال ہے ہر وقت دوسرے کی بدی کی تلاش میں رہتا ہے اور اپنی بدی دکھائی نہیں دیتی۔اس سلسلے میں حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک اور حدیث بھی میں آپ کے سامنے رکھتا ہوں جو حضرت ابو ہریرہ سے مروی ہے کہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بدظنی سے بچو کیونکہ بدظنی سخت جھوٹ ہے، ایک دوسرے کے عیب کی ٹوہ میں نہ رہو، اپنے بھائی کے خلاف تجسس نہ کرو، اچھی چیز ہتھیانے کی حرص نہ کرو، حسد نہ کرو، دشمنی نہ رکھو، بے رخی نہ برتو ، جس طرح اس نے حکم دیا ہے اللہ کے بندے اور بھائی بھائی بن کر رہو، مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہے اور وہ اس پر ظلم نہیں کرتا، وہ اسے بے یار و مددگار نہیں چھوڑتا، اسے حقیر نہیں جانتا۔اپنے سینے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے آپ نے فرمایا تقویٰ یہاں ہے تقویٰ یہاں ہے یعنی مقام تقویٰ آپ کا دل ہے ایک انسان کے لئے یہی برائی کافی ہے کہ وہ اپنے مسلمان بھائی کی تحقیر کرے ہر مسلمان کی تین چیزیں دوسرے مسلمان پر حرام ہیں اس کا خون، اس کی آبرو اور اس کا مال۔اللہ تعالیٰ تمہارے جسموں کی خوبصورتی کو نہیں دیکھتا اور نہ تمہاری صورتوں کو ، نہ تمہارے اموال کو بلکہ اس کی نظر تمہارے دلوں پر پڑتی ہے (ابن ماجہ باب الزھد )۔اور ایک روایت میں ہے کہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک دوسرے سے حسد نہ کرو، اپنے بھائی کے خلاف جاسوسی نہ کرو، دوسروں کے عیبوں کی ٹوہ میں نہ لگے رہو۔ایک دوسرے کے سودے نہ بگاڑو، اللہ تعالیٰ کے مخلص بندے اور بھائی بھائی بن کر رہو۔یہاں ایک ذکر ہے ایک دوسرے کے سودے نہ بگاڑ و اس سودے نہ بگاڑنے کا تعلق ایک اور بات سے بھی ہے جو بیاہ شادی کی باتیں ہوتی ہیں اور رشتے تجویز ہوتے ہیں اور دونوں طرف سے گفتگو چلتی ہے یہ بھی ایک سودا ہے اور بعض لوگوں کو عادت ہے کہ وہ اچھا رشتہ کہیں ہوتا دیکھ نہیں سکتے اور حسد کے نتیجے میں پھر اس فریق کے پاس پہنچتے ہیں جس پر ان کا اثر ہو اور کہتے ہیں کہ یہ جو رشتہ ہے اس میں فلاں مخفی دبی ہوئی خرابی موجود ہے یا اس بچی کا پہلے بھی ہوا تھا اس کو چھوڑا گیا تھا تو کیوں چھوڑ دیا گیا تھا اس طرف بھی توجہ کرو۔اس طرح وہ لوگ سودے بگاڑتے ہیں اور اس کی آئے دن مجھے شکایتیں ملتی رہتی ہیں۔شاید ہی کسی دن کی ڈاک ہو جس میں یہ مضمون بیان نہ ہو۔اس کے نتیجے میں معاشرہ دکھوں سے بھر گیا ہے اتنی تکلیف ہوتی ہے یہ سوچ کر کہ کیوں بگاڑتے ہیں۔ان کا حرج کیا ہے اگر کسی کی اچھی جگہ شادی ہو جائے تو اس کو اپنے حال پر چھوڑ دینا چاہئے مگر بعض پاکستان سے جرمنی لکھ کے بتاتے ہیں