اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 567
حضرت خلیفہ مسیح الرابع' کے مستورات سے خطابات ۵۶۷ خطاب یکم راگست ۱۹۹۸ء ایک غزوہ میں صحابہ کرام کا پیاس سے بُرا حال تھا، بے تاب ہو ہو کر پانی کی تلاش میں دوڑتے پھرتے تھے۔حسن اتفاق سے ایک عورت مل گئی جس کے پاس پانی کا ایک مشکیزہ تھا۔صحابہ اس کو حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لائے۔یہ چیز ایک خاص توجہ کے لائق بات تھی کہ پیاسوں کو پانی مل جائے تو صبر کہاں رہتا ہے لیکن صحابہ کی ایسی اعلیٰ تربیت تھی ایسا نظم وضبط تھا اور پھر یہ خیال کہ کسی غیر عورت کا مشکیزہ ہے ہم کیسے حق رکھتے ہیں کہ اس سے لے لیں۔ان وجوہات کی بناء پر وہ اس عورت کو لے کر حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پہنچے۔آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے قیمت دلوائی اور پھر اسے صحابہ میں تقسیم فرمایا۔اب ظاہر بات ہے کہ اس کی خدمت کی قیمت مل چکی تھی اس کو لیکن چونکہ پیاس کا وقت بہت شدید ہوتا ہے اور اس وقت صحابہ جان کنی کی حالت میں پہنچے ہوئے تھے اس لئے اسے بھی انہوں نے احسان جانا اور احسان جاننا ایک بہت عظیم صحابہ کے اخلاق کی طرف اشارہ کرتا ہے۔قیمت دی جاچکی ہے لیکن اگر وہ انکار کر دیتی کہتی کہ میں اپنا مشکیزہ تمہیں نہیں دوں گی تو صحابہ جانتے تھے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بھی اس پانی کو استعمال کی اجازت نہ دیتے۔پس اس پہلو سے اسے احسان جانا کہ اسے وہ بیچنے پر آمادہ ہوگئی۔اس احسان کا خیال اتنا لمبا عرصہ ان کے دل پر جاری رہا کہ بعد میں اسلامی جنگوں میں جب اس علاقے کی فتح ہوئی تو تمام صحابہ کو یہ ہدایت تھی کہ اس عورت اور اس کے خاندان اور گھر والوں کو کچھ نہیں کہنا۔دائیں اور بائیں سے فتوحات کرتے ہوئے گزر جاتے تھے۔اور اس عورت کے گھر کو یا خاندان والوں یا گاؤں کو چھیڑا تک نہ گیا۔اس کے نتیجہ میں وہ از خود مسلمان ہوئیں۔اس کے گھر والے مسلمان ہوئے اور سارا قبیلہ مسلمان ہو گیا۔پس یہ خیال بھی غلط ہے کہ اسلام جنگوں کے زور سے پھیلا ہے۔اسلام حسن خلق کی وجہ سے پھیلا ہے اور حسن سلوک میں احمدی خواتین کو ابھی بہت ترقی کرنا ہے۔اب میں اس دور میں جو احمدی خواتین اور مختلف لجنات جو خدمات انجام دے رہی ہیں ان میں سب سے پہلے میں لجنہ اماءاللہ غانا کا ذکر کرتا ہوں۔لجنہ اماءاللہ غانا میں بکثرت ہونے والی تبلیغ کی وہ خاموش کارکنات ہیں جن کا ذکر تفصیل سے نہیں ملتا مگر اگر وہ خدمت نہ کرتیں تو غانا میں اس کثرت سے تبلیغ ہونا ممکن نہیں تھا۔تمام غانا میں تمام میز بانی کے فرائض یہ احمدی خواتین ادا کر رہی تھیں اور کوئی علاقہ ایسا نہیں تھا جہاں احمدی خواتین نے اپنے آپ کو میز بانی کے لئے پیش نہ کر رکھا ہو۔